تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 6

کر دی جائے تو اللہ تعالی نے اس گھر کو ز سر نو تعمیر کرنے اور اس گھر کی حفاظت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کی نسل کو وقف کر دینے کا فیصلہ کیا تا ایک قوم اس بیت اللہ سے تعلق رکھنے والی ایسی پیدا ہو جائے جن کے اندروہ تمام استعدادیں پائی جاتی ہوں جو اس قوم میں پائی جانی چاہئیں تو محمد رسول اللہ صل اللہ علہ وسلم اور قرآن کریمہ کی بھی مطالب ہو۔چنانچہ اڑھائی ہزار سال تک عاؤں کے ذریعہ سے اور وقف کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم تیار ہوئی جواگر خدا تعالیٰ کی بن جائے تو اس کے اندر تمام وہ استعدادیں پائی جاتی تھیں جن سے وہ روحانی میدانوں میں بنی نوع انسان کی راہ نمائی اور قیادت کر کے اور چونکہ یا تعدادی اور قوتیں اپنے ماں کو پینے کی تیں انکے غلط استعمال سے فتنہ عظیم ہیں یا ہوسکتا تھا۔اس لیے جب تک وہ گمراہ رہے انھوں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی شدت سے مخالفت کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیکم کو اتنی ایذا پہنچائی کہ پلی کسی امت نے اپنے نبی کو اس سم کی ایذا نہیں پہنچائی۔غرض ان کے اندر استعدادیں بڑی تھیں۔ایک وقت تک وچ چھپی رہیں، ایک وقت تک شیطان کا ان تقبضد رہا لیکن جب دو سوئی ہوئی استعدادیں بیدار ہوئیں اور انھوں نے اپنے رب کو پہچانا تو دنیا نے وہ نظارہ دیکھا کہ اس سے قبل کبھی بھی نسان نے خداتعالی کی راہ میں اس قسم کی قربانیوں کا نظارنہیں دیکھا تھا۔غرض یہ وہ قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں اور ان کی دعاؤں اور ان کی نسل کی قربانیوں اور ان کی دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔غرض وضعَ لِلنَّاسِ کا مفہوم حقیقی معنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ تمام اغراض و مقاصد جو بیت اللہ سے متعلق ہیں وہ حقیقی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تعلق رکھنے والے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علی السلام و خداتعالی نے یہ بتایا تھاکہ میں ا گھر کی ہو یا گھر ہے زمیہ نوتعمیر ان اغراض کے پیش نظر کردار ہا ہوں اور اس کے لیے تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔مرض پہلا مقصد جس کا تعلق بیت اللہ سے ہے یہ ہے کہ یہ بہت اللہ وہ سب سے پہلا خدا کا گھر ہے جس ملی نشانی نے تمام بنی نوع انسان کے دینی اور دنیوی فوائد رکھے ہوئے ہیں۔وضح للناس یعنی تمام لوگوں کی بھلائی کے لیے اس کی تعمیر کی گئی ہے۔یہاں سے دنیا کی اقوام بلا امتیاز رنگ بلا امتیاز نسل اور قطع نظر ان امتیازات کے جو ایک کو دوسرے