تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 81
Al شریعیت کے نہیں پورا کیا کہ ہ کا التعلم من جو اقوام عالم کے درمیان ان کو قائم کرنے کے لیے تھی وہ انسان کو دی گئی اوراب سرین مقصد میں اللہ تعالی یہ بتا رہا ہے کہ اس تعلیم پر عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ امت محمدیہ یعنی موعودہ امت تذ قتل اور عاجزی کو اختیار کرنے والی نہ ہو۔اس اسے کیا اتخذوا من مقام ابراه بر منلی اس کے بغیر تم عالمگیر اس کو دنیا میں قائم نہیں کر سکتے تو یہاں وعدہ دیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ عیہ علم کے ذریعہ ایک ایسی امت پیدا کی جائے گی جو مقام مہوریت پیس ولی امضمون سے قائم ہوگی حضرت مسیح موعود علی اسلام فرماتے ہیں قرآن کریم کے کامل تیمی جواپنے مقام عبودیت کو جانتے ہیں اور نوری سے اس پر قائم میں وہ ہیں جو ؟ بشود کبریائی حضرت باری تعالی ہمیشہ تنذیل اور مستی اور انکسار میں رہتے ہیں او اپنی اصل حقیقت رنت اونیسی اور ناداری اور تقصیری او نیط اداری سمجھتے ہیں در ان تمام کمالات کو جتوان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں، جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے میں کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ "" بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے پس وہ تمام۔خیر و خوبی خداہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا حشر اسی کی ذات کامل گو قرار دیتے ہیں اور صفات البتہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں میں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پر جوش دریا اُن کے دلوں پر الیسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی مستی آن پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے هر یک رگ وریشہ سے بھلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔ا برا امین احمد به حصه چهارم تا ۲۵ حاشیه در مایه میل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔