تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 80
یا کہ قرآن کریم کی شرعیت بین الاقوامی ان کی ضمانت دیتی ہے۔اس شریعیت کے احکام پرعمل کرو و تمام دنیا کی اخوا میں اگر جھگڑے پیدا ہو بھی جائیں تو یا انسان اور عدل کے اصول پر ٹے ہو جائیں گے اور امن کوکسی سم کا دس کا نہیں لگے گا ہیں قرآن کریم نے بری تفصیل سے تعلیم دی جس کے نتیجہ یں دنیامیں امن قائم ہوسکتا ہے چونکہ مشابہ کے مقصد کے حصول کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے اس لیے اس کی ذمہ داری بھی جماعت احمدیہ پر ہے کہ وہ دنیا اس کثرت کے ساتھ اس تعلیم کی اشاعت کرے جو قرآن کریم نے دنیا میں قوموں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے ہمیں دی ہے ، کیونکہ اگردنیا اندھیرے میں رہے توقیامت کے روز کہ سکتے ہیں کہ اسے خدا ہمیں تو لہ میں تھا میں کوعلم تھا اورمین کے کندھوں پر گوئے یہ ذمہ داری دیکھی تھی کہ وہ ہمیں علم میں انھوں نے ہم تک یہ علم میں پہنچایا اس لیے ہمیں بے قصور قرار دے اور جن کا قصور ہے ان پر اپنے غضب کا اظہار کرہ اللہ تعالی ہمیں اپنے غضب سے محفو زار تھے۔دسواں مقصد بیت اللہ کی تعمیرکا یہ بیان ہوا تھا: اتخذوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِم مُصلے جس مں یہ بتایاگیا تھا که نگر کے ذریعہ ، بیت اللہ کے ذریعہ اور اس میں مبعوث ہونے والے عظیم انسان نبی کے طفیل اقوام عالم مقام عبودیت کا عرفان حاصل کریں گی اور اس حقیقی عبادت کی بنیا دیہاں ڈالی جائے گی جون تل اور فروتنی اور انکار کے منہ سے پھوٹتی ہے اور اس طرح قوم قوم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حل پیدا ہونگے اورزمین کے بعد جبکہ پر اشاعت اسلام کے لیے مراکز قائم کیے جائیں گے ، جہاں عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور حلال کا اقرار کیا جائے گا اور اظہار کیا جائے گا اوراس عاجزی اور ذیل کے نتیج میں جو محض خدا کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لیے اختیار کیا جائے گا وہ اقوام آسمانی برکات صل کریں گی اور خشش کی مستحق ٹھہریں گی۔تو فرمایا تھاکہ یہاں مکہ کے ذریعہ اس شریعیت کے طفیل جو بیان زندگی بہلو کواپنے تمام معافی اور تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنے والی امت پیدا ہو جائے گی جو مقام عبودیت پر مضبوطی سے قائم ہوگی۔در اصل اس کا تعلق بھی پہلے دو مقاصد سے ہے کیونکہ آٹھواں دیدہ باتھا کہ نام اقوام کو ایک امت مسلہ بنا دیا جائے گا ایک قوم بنادیا جائے گا یہ مونہیں سکتا جب ان امن عالم کا قیام نہ ہوں توپہلے وعدہ دیا اور پھر اس وعدہ کو قران کریم کی