تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 71 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 71

تشر ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے آیے وَإِذْ جَعَلْنَا البَيْتَ مَثَابَةٌ لِلنَّاسِ وَآمَنَّاء وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى رسورة البقرة :۱۲۶) تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا :- ان میں مقاصد میں سے ان کا ذکراللہ تعالی نے قرآن کریم کی ان آیات میں کیا ہے جن کا ایک ٹکڑا اس قت بھی میں نے تلاوت کیا ہے ، سات کے متعلق ہمیں اس سے قبل اپنے خطبات میں بیان کر چکا ہوں اور تا چکا ہوں کہ وہ مقاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہشت سے کس طرح حاصل ہوئے۔آٹھواں مقصد میں کا ذکر میاں ہے مشابہ کے لفظ میں بیان ہوا ہے میں نے بتایا تھا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی ہے آٹھویں غرض ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ایک ایسار سول مبعوث ہو گا جو تمام اقوام عالم کو امةُ وَاحِدَ ا نہاد سے گا اور ایک ایسی شریعیت نازل ہوگی میں کے ذریعہ سے تمام منتشر اور پراگندہ اقوام کو ایک مرکز توحید اور مرکز پاکیزگی مینا ہے کیا جائے گا۔یہ مقصد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہشت سے ہی حاصل ہوا۔مثابة کے لغوی معنی ایک تو یہ ہیں : مُجْمعُ النَّاسِ بَعد تفرقهم القاموس المحيط، انتشارا در تفرقہ کے پیدا ہو جانے کے بعد پھر دوبارہ جس جگہ لوگ اکٹھے ہوں اُسے مشابہ کہتے ہیں۔اور ایک دوسرے معنی اس کے یہیں مکاناً يُكتَبُ فِیهِ التَّوابُ وہ جگہ جہاں لوگوں کے لیے ثواب اور ملے اور تیزا کے احکام جاری ہوتے اور لکھے جاتے ہیں۔یہاں اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ ہم اس بیت اللہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہشت کے بعد ایک الیہ مرکزی نقطہ