تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 45
ذب کو قرآن کریم اور اسلم فتح کرتا ہے اس لیے اللہ تعالی نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِل كان زهوقا در سورن بنی اسرائیل آیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اس کی تفسیریں فرماتے ہیں کہ یہاں الحق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہے۔نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا وجود بھی ہے اور قرآن کریم بھی ہے۔" تو اس آیت کے معنے یہ بنے کہ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے ذریعہ خداتعالی کا جلالی طور ہوا اور اس جلالی طہور کے تجریں شیطان نے اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اوراس کی تعلیں ذلیل ورستی ثابت ہوئیں اس کی قائم کردہ بدروم اور بدعات شنید کا گند ظاہر ہوگیا اوراس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست ہوئی۔ین قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ اس غرض کے لیے قرآن کی اور ا ا ا ا ا ا وا نان ورود و برای ارایان فرماتا ہے : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُل وَتَوَكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ، راية ٣٣) ضمن میں یہ بتا دوں کہ اس آیت میں علی البانی موقت تک کا ہونڑا ہے قرآن کریم می میں مختلف جنگوں پر آیا ہے اور ہم سے جگہ علی علیحدہ معانی او مضمون کو بیان کرتا ہے تواللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ وہ خدا ہی ہے جو اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں کامل ہے اُس نے اس رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور اس بعثت اور اس ظہور سے غرض یہ ہے لیظهر علے الداني حلیم کہ تمام ادیان پراس شریعیت کی اور اس رسول کی برتری کو وہ ثابت کرے۔دین حق کی برتری ثابت ہوگی ، تودین لانے والے کی برتری خود بخود ثابت ہو جائے گی۔یہاں لظرة على الدين مجلہ کہا گیا ہے جس کے منے یہ ہیں کہ وہ تمام ادیان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دیا میں موجود تھے لیکن ان کے چیلے اور شکلیں بگڑ چکی تھیں۔جب بھی وہ اسلام کے مقابل پائیں گے شکست کھائیں گے۔قرآن کریم میں ایسے سامان اللہ تعالیٰ نے رکھ دیئے ہیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلامی شریعیت کے بعد اگر کوئی جھوٹا دین قائم ہو گا تواس کے اوپر بھی یہ غالب آجائے گا۔کیونکہ یہاں دین کے ساتھ سابقہ ادیان کی کوئی شرط نہیں گائی گئی شکل کہانی ہیں انھوں نےاپنا یا دین باقرآن کریم کے مقابل مں قرآن کریم کا دعوی ہے کا یاران و شریعت اسلامیہ کے بی پیدا ہوں ان کا سرکھنے کی بھی قرآن میں طاقت ہے۔کیونکہ یہ اس خدا کا کلام ہے جو علام الغیوب ہے جس کے علم میں ہیں وہ تمام باتیں جو آئیندہ ظہور میں آنے والی ہیں۔تو دین اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کے مقابلہ میںنہ اگلے نہ چھلے کوئی دین بھی ٹھہر نہیں سکتے۔وہ ہر ایک پر اپنے