تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 133 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 133

میں تمہارے لیے بطور قائد کے ایک نمونہ پیش کرتا ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر رات اللہ تک پہنچاتا ہے تم اس پر چلو میں یہ کہتا ہو کہ یہ راستہ خدا کی طرف پہنچانے والا ہے ہیں اس پر چل رہا ہوں۔میرے پیچھے مجھے آؤ تاکہ تم بھی حد تک پہنچ جاؤ پی نوی منی کے لحاظ سے علم وحی سے اس کی اتباع کرنا مفردات راغب کے نزیر یک تلاوت کے معنی میں شامل ہے علم سے اتباع کرنا حکمت کی باتیں بناکر، اور مل سے اتباع کرنا ان باتوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال کر معرض للہ تعالی نے یہاں جا کر ملی شد علیہ وسلم کے منہ سے یہ کھلوایا کہ وان اتلو القران مجھے اللہ تعالے کا یہ حکم ہے کہیں یہ قرآن تمہیں پڑھ کے سناؤں۔قرآن کا لفظ خود قرآن کریم نے آیات کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔فرمایا بی هوایت ببنت عنکبوت کہ یہ آیات بینات ہیں اور اس لیے ان اسلو القران کے معنی یہ ہوں گے کہ میں آیات بنیات تمہارے سامنے پڑھ کے سناؤں۔اسی طرح قرآن کریم کا یہ بھی دعوی ہے کہ وہ ایک کامل شریعت ہے۔اس لیے ان اتلو القران کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا نے مجھے دیکم دیا ہے کہ مھارے سامنے کامل شریعت کتاب کی شکل میں بھی اور اول المسلمین کی شکل میں بھی رکھوں۔کیونکہ جب آپ کے اخلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو حضرت عائشہ رض نے فرمایا تم قرآن کو پڑھ او رکان خُلُقُهُ القُرآنَ ) پس دعایہ تھی کہ بتلو عليهم البيتك - وہ نبی آیات بینات دنیا کے سامنے پیش کرتا چلا جائے۔اونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دعا قبول ہوئی اور خدا کے حکم سے میں انکو القران قرآن کریم کی آیات وقنات دنیا کے سامنے بھر رہا ہوں۔پھر دی ہی تھی کہ يُعلمهم الكتب اورنبی کریم صلی الہ علیہ وسلمنے فرمایا : الوا الغوان میں کامل شریعیت اس دعا کی قبولیت کی وجہ سے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہوں۔پھر دعا یہ تھی کہ وہ حکمت کی باتیں سکھائے اور نبی کریم صلی اللہ علی وسلم نے فرمایا النمو الاذان میں یہ قرآن جو حکمت سے پڑا اور بھلا ہوا ہے اور حکمت بالغہ ہے اسے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہوں توان مینوں دعاؤں کی قبولیت کے تیر ہیں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ایک دو لفظی فقرہ کہلوایا او مینوں باتوں کی طرف اشارہ کر دیا اور ان منے کی گیت بھی تصدیق کرتی ہے۔