تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 132
اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کے متعلق بھی لیا جاتا ہے اور کتاب اور اس کی حکمت کو پڑھنے اٹھنا نے اور اس پر عمل کرنے اور کروانے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔مفردات راغب میں تلاوت کے لغوی معنے یہ کیسے گئے ہیں کہ السلامة تختص باتبَاعِ كُتُبِ اللَّهِ الْمُنَزَّلَةِ تَارَةً بِالْقِرَاءَةِ وَتَارَةٌ بِالارْتِسَامِ بِمَا فِيهَا مِنْ أمْرٍ للي وترطيب وترهيب که تلاوت خاص طور پر مخصوص ہے اس معنی کے ادا کرنے ہیں کہ ان کتب کی اتباع کی جائے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور یہ اتباع دو طریق سے ہوتی ہے ، قراءت کے ساتھا اور احکام پرعمل پر ہو کر حکم کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے اندر جو او امر و نواہی ہیں اُن پر عمل پیرا ہونا بھی تلاوت کے اندر شامل ہے، اور ترغیب و ترہیب کے ذریعہ سے وہ کتاب جو اثر ڈالنا چاہتی ہے اس اثر کو قول کے بینی جو کہیں بیان کیگئی ہوں ان کتوں سے مار ہوتا۔یہ منی بھی تلاوت کے اند پائے جاتے ہیں قرآن کریم میں سورہ انفال میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمُ اللهُ زَادَتُهُمْ إِيمَانًا (آتِ ٣) یعنی کہ مومن وہ ہیں کہ جب آیات آسمانی اُن پر تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کی زیادتی ایمان کا باعث بنتی ہیں۔میں یہاں یہ بارہا ہوں کہ یات کے متعلق بھی تلاوت کا لفظ قرآن کے محاورہ میں استعمال ہوا ہے اسی طرح کتاب کے پڑھنے اور ہی کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اس پر عمل کرنے اور دنیا کے لیے اپنا اسوہ پیش کرنے کے متعلق بھی تلاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے جیساکہ اللہ تعالی قرانکریم میں فرماتا ہے : اتل ما أوحي إليكَ مِن الکتب (عنکبوت ) کہ اپنے رب کی کتاب میں سے جو وحی تیرے پر نازل ہو رہی ہے روحی کا سلسلہ اس وقت جاری تھا، اس کی تلاوت کر یعنی اس پریل پیرا ہو اور اسے پڑھ ر آدمی جو کچھ پڑھتا ہے وہ دوسروں کو سنانے کے لیے بھی پڑھتا ہے اوراپنے لیے بھی اور چونکہ اسے مخاطب اس کے نبی اور سی ال علیہ وسلم ہیں۔اسی لیے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ عمل پیرا ہو کر ان لوگوں کے لیے قابل تقلید نمونہ بن جا انبیاء علیہم السلام کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ یہ فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا دعوئی اور ندا یہی ہوتی ہے کہ میں اول المسلمین ہوں مینی سب سے پہلے میں جان احکام اور نا ہی عمل کرنے والا ہوں نہیں اپنی گردان خدا کے حکم کے نیچے رکھتا ہوں اور اس جنگ