تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 11

اور ایسے بندے اس امت میں پیدا ہوتے رہیں گے، جو قیامت تک یہ ثابت کرتے رہیں گے کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے آبات بقنیات کو حاصل کرتے ہیں۔پانچویں غرض جس کا تعلق بہیت اللہ سے ہے اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے کہ یہ مقام ابراہیم ہے۔یہاں اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا کہ دیکھو ہمارے بندے ابراہیم علیہ السلام) نے اور بہتوں نے اس کی نسل میں سے انقطاع نفس کر کے اور تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو کر سچے عاشق اور محبت کی طرح اسلَمُتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ کا نعرہ لگایا اور دنیا کے لیے ایک نمونہ بنایا۔ہم نے اس بیت اللہ کی آبادی کا اس لیے انتظام کیا ہے کہ اس کے ذریعہ عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے جو تمام حجابوں کو دور کر کے اور دنیا کے تمام علائق سے منہ موڑ کر خداتعالی کے لیے اپنی مرضات سے نگے ہوکر اور تمام خواہشات کو قربان کر کے فنافی اللہ کے مقام کو حاصل کرنے والے ہوں اور اس عبادت کو احسن طریق پر اور کامل طور پر ادا کرنے والے ہوں جس کا تعلق محبت اور اشتہار سے ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک وہ عبادت ہے جو ند گل اور انکسار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور ایک وہ عبادت ہے جو محبت اور ایثار کی بنیا دوں پر قائم ہے۔ہماری نماز جو ہے یا اس قسم کی عبادت ہے جو ند گل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز رہا ہے اور دعا کے لیے انتہائی تیل اور انکسار کو اختیار کرنا ضروری ہے جس شخص کے دماغ میں اپنے رب کے مقابلہ میں ایک ذرہ بھی تکبر ہو اس کی دعا کبھی قبول نہیں ہوسکتی پس ہماری نمازیں صرف اس صورت میں عبادت بنتی ہیں کہ جب وہ حقیقتاً تذلل اور انکسار کے مقام پر کھڑی ہوں۔اس کے مقابلہ میں دوسری عبادت وہ ہے جو محبت اور ایثار کی بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی یہ عبادت جس کا تعلق تعمیر کعبہ سے ہے جس کا تعلق حفاظت کعبہ سے ہے اور جس کا تعلق بیت اللہ کے لیے خود کو اور اپنی اولاد کو وقف کر دینے کے ساتھ ہے اور اس کے لیے دعائیں کرنے کا تعلق ہے یہ محبت والی عبادت ہے اور خدا تعالی کی محبت اور خدا تعالیٰ کے عشق کا جو مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے کیا وہ عدیم المثال تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مقام ابراہیم ہے اس مقام سے ہم ایک ایسی امت پیدا کریں گئے ہو