تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 110

میر ی حقیقی عبادت سے منہ چھہ لیتے ہیں لینے ایسی عبادت سے جسے میں قبول کیا کرتا ہوں اور جن کے متعلق نہیں دوسری جگہ قرآن کریم میں کہہ چکا ہوں کہ تمہاری عبادتوں کے ساتھ تمہاری دعاؤں کا ہونا ضروری ہے اور جولوگ تکبر سے اپنی عبادت کو عبودیت کے اس مقام پر نہیں لائیں گے میں انہیں جہنم کی مزاروں گا اور وہ نا کامی اور میرے قہر اور غضب کی جہنم میں داخل ہوں گے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ منو إلى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ٥ سورة البقرة آیت (۱) اسکے رسول ! اگر میرے بندے میرے هر متعلق تجھ سے سوال کریں کہ خدا تعالی کی مستی کا کیا ثبوت ہے ہے اور اس کی صفات کا علم ہم کیسے حاصل کریں تو گو ان کو جواب دے کہ خدا تو تمہارے قریب ہی ہے، تم اس کے در کو کھٹکھٹاؤ وہ تمھارے لیے کھولا جائے گا اور تم اس دعائیں کرو اس کی بتائی ہوئی شرائط کے مطابق تمہاری دعائیں قبول ہوں گی اور قبولیت دعا کے نتیجہ مں تم ذات باری اور صفات باری کا معمہ حاصل کرو گے اور اس معرفت اور عرفان کے بعد تمھارے دل اس کی محبت میں گم ہوجائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انکو چاہیئے ونیو منوانی کہ مجھ پرایمان لائیں ، میری ذات پرا در میری صفات پر تنادہ ہدایت پائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق برکات الدعا میں فرماتے ہیں :- " اور دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق مجاز بہ ہے یعنی پہلے خدائے تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کینیتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔سو بھی وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدائے تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امیرا در کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھلکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے ، پھر آگے کیا دیکھتا