تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 106 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 106

غلامی شہوات اور رداءتِ اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بکتی اس سے دور کر کے اس کی جگہ ربانی اخلاق کا اور پھر دیا جاتا ہے۔تب رو مبلی مبدل ہوکر ایک نئی پیدائیش کا پیرا یہ پہن لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے سنتا اور خدائے تعالی ہے دیکھتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ حرکت کرتا اور خدائے تعالیٰ کے ساتھ ٹھہرتا ہے اور اس کا غضب خدائے تعالی کا غضب اور اس کا رحم خدائے تعالیٰ کا رحم ہو جاتا ہے اور اس درجہ میں اس کی دعائیں پہلور اصطفاء کے منظور ہوتی ہیں نہ بطور انیلا کے۔اور وہ زمین پر حجتہ اللہ اور امان اللہ ہوتا ہے اور آسمان پر اس کے وجود سے خوشی کی جاتی ہے اور اعلیٰ سے اعلی عطیہ جو اس کو عطا ہوتا ہے مکالمات الہیہ اور مخاطبات حضرت یزدانی ہیں جو بغیر شک اور شبہ اور کسی غبار کے چاند کے نور کی طرح اس کے دل پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور ایک شدید الاثر لذت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور طمانیت اور نسلی اور سکینت بخشتے ہیں " (آئینہ کمالات اسلام، صفحه ۲۲۶ تا ۲۳۱) یہ وہ ثمرات ہیں جن کا والد ہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔اور یہ وہ ثمرات ہیں جو امت محمدیہ کو اس کثرت کے ساتھ عطا ہوئے کہ دیکھنے والی آنکھ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے۔سترھویں غرض رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا میں بیان ہوئی تھی اور تایا گیا تھا کہ اعمال کو ی نے نہیں جب تک مقبول نہ ہوں اس لیے روحانی رفعتوں کا حصول صرف دُعا کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اور اس میں اشارہ تھا کہ ایک عظیم نبی یہاں مبعوث ہوگا اور اس کے فیوض روحانی کے طفیل ایک ایسی امت جنم لے گی جو اس حقیقت کو سمجھنے والی ہوگی کہ انتہا ئی قربانیاں بھی بے سود اور بے نتیجہ میں جب تک عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالے کے فضل کو جذب نہ کیا جائے