حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 86 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 86

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات آپ کا کم و بیش 21 سالہ دور خلافت عظیم الشان کارناموں سے بھرا پڑا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بڑے بڑے معجزات دکھائے۔بظاہر ناممکن نظر آنے والے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بحفاظت لندن پہنچایا۔اسلم قریشی کو جو ایک سازش کے تحت روپوش ہو گیا تھا باہر نکال کر ملاؤں کو، جو اُس کے اغواء اور قتل کا الزام خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ پر لگا رہے تھے اور ظالم ضیاء الحق کو ذلیل ورسوا کیا۔حضور رحمہ اللہ کے مباہلہ کے نتیجہ میں بدنام زمانہ وفرعون زمانہ ڈکٹیٹر صدر پاکستان ضیاء الحق کو ہلاک کیا جس نے پاکستان کے احمدیوں پر بے تحاشا مظالم ڈھائے تھے۔حضور رحمہ اللہ نے وقف نو کی عظیم الشان تحریک کا اجرا فر ما یا۔عالمی بیعت کا آغاز آپ کے دور خلافت میں ہوا۔ایم ٹی اے کے عظیم الشان روحانی مائدہ کی داغ بیل آپ نے ڈالی اور اسے پروان چڑھایا۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ نماز کی محبت دراصل اللہ ہی کی محبت ہے۔اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا اُس سے دُعائیں کرنا اور اُس پر کامل بھروسہ ہونا یہ تعلق باللہ کی دلیل ہوتی ہے۔ذیل میں آپ کی قبولیت دعا اور نماز سے عشق ومحبت کے واقعات درج کئے جاتے ہیں:۔جس کی دُعا قبول ہوگی اُسے دو گیلن پٹرول اور کار ملے گی ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال سمیت (ایک سفر سے۔ناقل ) قادیان واپس آرہے تھے۔راستے میں پتہ چلا کہ گاڑی کا پٹرول تو ختم ہونے کو ہے۔پٹرول کے پیمانے کی سوئی صفر کے نشان تک پہنچ گئی ہے۔دراصل انہیں چلتے وقت پٹرول لینا یاد نہیں رہا تھا۔اب آدھا سفر ہو چکا تھا اور آدھا باقی تھا اور منزل مقصود 86 98