حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 76
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں اگلے دن پھانسی پر لٹکایا جانا ہو۔زمین پر سوتا تھا۔اوڑھنے کے لئے ایک بوسیدہ کمبل تھا اور سرہانے رکھنے کے لئے اپنی اچکن تھی۔بڑی تکلیف تھی۔میں نے اس وقت دعا کی کہ اے میرے رب! میں ظلم کر کے چوری کر کے کسی کی کوئی چیز مارکر یا غصب کر کے یا کوئی اور گناہ کر کے اس کو ٹھڑی میں نہیں پہنچا۔میں اس جگہ اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ میں تیرے نام کو بلند کرنے والا تھا۔میں اس جماعت میں شامل تھا جو تو نے اس لئے قائم کی ہے کہ نبی اکرم صلی یہ تم کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے۔میرے رب ! مجھے یہاں آنے سے کوئی تکلیف نہیں ، مجھے کوئی شکوہ نہیں، میں کوئی گلہ نہیں کرتا، میں خوش ہوں کہ تو نے مجھے قربانی کا ایک موقع دیا ہے اور میری اس تکلیف کی میری اپنی نگاہ میں بھی کوئی حقیقت اور قدر نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں اس جگہ جہاں ہوا کا گزر نہیں سو نہیں سکوں گا۔میں یہ دعا کر رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھیں۔میں بلا مبالغہ آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے نزدیک ایک ائیر کنڈیشنر لگا ہوا ہے اور اس سے ایک نہایت ٹھنڈی ہوا نکل کر پڑنی شروع ہوئی اور میں سو گیا۔جا یہاں سے چلا جا حیات ناصر از محمود مجیب اصغر صفحه 173 ) 1954ء کی بات ہے سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر آپ تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی تعمیر کی مکمل نگرانی فرمارہے تھے۔سخت دھوپ اور انتہائی تمازت 76