حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 69
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات محض 19 سال کی عمر میں آپ کی زبان مبارک سے نکلا۔آگے چل کر آپ کے عرفان کا کیا عالم ہوگا اس کی صحیح عکاسی کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔اسی نظم میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں:۔چمکوں گا میں فلک پر جیسے ہو کوئی تارا بھولوں کو رہ پہ لاوے ایسی میں شمع ہوں گا عالم کو میں معطر کر دوں گا اس مہک سے خوشبو سے جس کی ہر دم مد ہوش میں رہوں گا اخلاق میں میں افضل علم و ہنر میں اعلیٰ احمد کی رہ پہ چل کر بدر الدجی بنوں گا سارے علوم کا ہاں منبع ہے ذات جسکی اس سے میں علم لے کر دنیا کو آگے دوں گا“ حیات ناصر از محمود مجیب اصغر صفحه ۵۹،۵۸) ان الله اشعار کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جوانی سے ہی بنی نوع انسان کی خدمت اور اُن کی اپنے خالق و مالک کی طرف رہبری کی آگ آپ کے سینے میں سلگ رہی تھی۔ذیل میں ایک دلچسپ واقعہ درج کیا جاتا ہے جس سے جوانی کے زمانے سے ہی آپ کے تعلق باللہ پرز بر دست روشنی پڑتی ہے۔” جب قدرت ثانیہ کا تیسرا ظہور ہوا اور حضور نے خلعت خلافت زیب تن فرمائی تو انہی دنوں پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد خان پروازی کا فیصل آباد کی ایک محفل میں جانا ہوا جہاں حضور کے ایک کلاس فیلو بھی تشریف فرما تھے ، غالباً 69