حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 53
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات میں پڑے رہے اور دعا فرماتے رہے۔“ سجدہ میں بہت رور ہے تھے (سوانح فضل عمر جلد اوّل صفحہ 116 ) نماز میں تضرع و گریہ وزاری اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق محبت کے سوا ممکن نہیں۔اللہ تعالی کا آپ پر خاص فضل تھا کہ جو بات بعض کو جوانی اور بعض کو بڑھاپے اور بعض کو عمر بھر حاصل نہیں ہوتی وہ بات آپ کو بچپن سے حاصل تھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی جو آپ کے بچپن کے اساتذہ میں سے تھے۔اپنے تاثرات کا اظہاران الفاظ میں کرتے ہیں : چونکہ عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت ۱۸۹۰ء کے آخیر میں کر لی تھی اور اس وقت سے ہمیشہ آمد ورفت کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔میں حضرت اولوالعزم مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کو ان کے بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح ہمیشہ ان کی عادت حیا اور شرافت اور صداقت اور دین کی طرف متوجہ ہونے کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی کاموں میں بچپن سے ہی ان کو شوق تھا۔نمازوں میں اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جامع مسجد میں جاتے اور خطبہ سنتے۔ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب آپ کی عمر دس سال کے قریب ہوگی۔آپ مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز میں کھڑے تھے اور پھر سجدہ میں بہت رور ہے تھے۔بچپن سے ہی آپ کو فطرۃ اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ خاص تعلق محبت تھا۔“ (سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 117) 53