حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات

by Other Authors

Page 3 of 119

حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 3

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تَحْمَدُهُ وَتُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ پیش لفظ اسلام میں عبادت کی بنیادی غرض یہ ہے کہ انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضاء اور اس کے احکام کے مطابق بسر ہو اور معرفت الہی حاصل ہو۔پس ایک مومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی پیدائش کی غرض کو سمجھنے اور اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور یہی غرض انسان کی پیدائش کی بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔چنانچہ جب بھی کوئی مامور من اللہ دُنیا میں آتا ہے تو اسکے آنے کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی وراء الوراء ہے انسانی عقل از خود اس تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ آیت کریمہ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (سورۃ الانعام آیت 104 ) میں معرفت الہی کا مسئلہ بڑے ہی لطیف اور جامع الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی معرفت اور تعلق باللہ کے تعلق سے معرفت کا پہلا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے انا الموجود کی گواہی دینا ہے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے باعث حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں فرمایا وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی یعنی اے رسول مقبول ہم نے تجھے اپنی تلاش میں دنیا وما فیھا سے گم پایا تو ہم نے آگے بڑھکر خود ہدایت 3