حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات — Page 104
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات حضور نے فرمایا: ”میں نے اس رمضان میں ان اسیران کے لئے خاص دعا کی تھی کہ اے میرے اللہ! اگلا رمضان ان اسیران کو جیل میں نہ آئے۔چنانچہ یہ دعا اتنی جلدی اور اس شان کے ساتھ قبول ہوئی کہ اس دعا کے چند دن بعد ہی یہ اسیران رہا ہو گئے۔( بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 25 ستمبر 2015 ء تا 1 اکتوبر 2015 صفحہ 14) قبولیت دعا کا انتہائی ایمان افروز واقعہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطاب میں قبولیت دعا کا انتہائی ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔حضور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں جب گھانا پہنچا ہوں تو وہاں کے ایک چیف نانا اوجیفو صاحب جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے وہ پہلی رات مجھے ملنے کیلئے آئے اور نماز کے بعد مجلس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا ہوں۔جب میں نے مربی صاحب سے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہ (چیف) ایک تو ہم پرست کا ہن قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی بیوی کا حمل ہر دفعہ ضائع ہوجا تا تھا۔وہ عیسائی پادریوں اور دم پھونکنے والوں کے پاس گئے۔کوئی فائدہ نہ ہوا۔جب ہر طرف سے مایوس ہو گئے تو امام وہاب آدم صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ میں ہوں تو عیسائی لیکن مجھے عیسائیت پر سے دعا کا یقین اُٹھ گیا ہے۔میں نے سنا ہے کہ خدا آپ لوگوں کی دعائیں قبول کرتا ہے۔آپ اپنے امام کو میری طرف سے سارے حالات بتا کر لکھیں کہ ہمارے لئے دعا کریں۔چنانچہ وہاب صاحب نے ان کا خط 104