تعلیم القرآن

by Other Authors

Page 71 of 120

تعلیم القرآن — Page 71

ترجمة القرآن المن ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ 71 الْكِتَابُ مادہ کتب سے كِتَاب اسم بنا ہے۔كَاتِبٌ لکھنے والا، مَكْتُوب جو کھی گئی۔جب کسی خاص چیز ، جگہ یا صفت کا ذکر کرنا ہو تو شروع میں ال لگا دیتے ہیں اور آخر میں تنوین کی جگہ پیش۔کتاب یعنی کوئی کتاب - اَلْكِتَابُ خاص کتاب The Book لَا رَيْبَ: اس میں کوئی شک نہیں۔ریب کے معنے ہیں بلا دلیل کوئی بات کہنا یا محض وہم کی بنا پر الزام لگانا اور اس کی سچائی پر شبہ کرنا۔ریب اس شک کو نہیں کہتے جو علم کی زیادتی کا موجب ہوتا ہو اور تحقیق میں ممد ہو بلکہ اس شک کو کہتے ہیں جو تعصب یا بدظنی کی وجہ سے ہو اور سچائی سے محروم کر دے،اضطراب اور بے چینی پیدا کرے۔ریب رَابَ يَرِيْبُ رَيْبٌ (ماضی مضارع مصدر لا یہاں نئی جنس ہے یعنی ہر قسم کے ریب کی نفی فِيْهِ : اس میں فِی + O ] فِی یعنی میں حرف جار ہے (مثلاً : ب ساتھ ، علی پر، مِنْ سے الی طرف) ه یعنی اس ضمیر واحد مذکر غائب ہے ( فی زمانہ یعنی زمانے میں ) نمیر وہ لفظ ہے جو کسی نام کی جگہ آئے۔(اردو میں جیسے ہم، وہ تم ، میں وغیرہ) مثالیں: فِيهَا اس میں (مونث)، فِيهِمَا ان دونوں میں، فِيْهِمْ ان سب میں، فِيكُمْ تم میں، فِيْنَا ہم میں، فِيهِنَّ ان سب میں (مونث)