تعلیم القرآن

by Other Authors

Page 4 of 120

تعلیم القرآن — Page 4

تعارف تعلیم القرآن 04 پر 6 اسم نکرہ: فَاعِل اور مَفْعُول کے آخری حرف پر تنوین ہے۔یہ اسم نکرہ کی علامت ہے۔اسم کسی چیز ، جگہ، یا صفت کا نام ہے۔جیسے بَيْتُ ، صُمّ بُكْمٌ عُمْقٌ ، قَلبٌ ، عَبْدٌ، رَسُول، کوئی گھر ، بہرہ ، گونگا ، اندھا ، دل ، بندہ کوئی رسول دوسری علامت ال ہے جو اسم سے پہلے لگتی ہے جیسے : الْكِتَابُ ، الرّحْمَنُ الشَّمْسُ ، الدَّارُ ، الاية خاص کتاب ، رحمن، سورج، گھر، نشانی یہ اسم معرفہ ہے۔۔6 عربی میں مؤنث اور مذکر کے بھی خاص اوزان ہیں جیسے: خَالِدٌ خَالِدَةٌ ، سَاحِدٌ سَاجِدَةٌ ، ذَاكِرٌ ذَاكِرَةٌ۔اور زبانوں کے برخلاف عربی میں دو کو تثنیہ کہتے ہیں اور دو سے زیادہ کو جمع مُسْلِمٌ ایک مسلمان، مُسْلِمَانِ دو اور مُسْلِمُونَ دو سے زائد۔اسی طرح مُسْلِمَةٌ ، مُسْلِمَتَان ، مُسْلِمَات مؤنث کے وزن ہیں۔کچھ اسم جیسے مُحَمَّدٌ آدَمٌ رَمْضَانٌ جَهَنَّمُ اسم معرفہ ہیں کیونکہ یہ کسی خاص شخص، چیز ، یا جگہ کے ذاتی نام ہیں جو لفظ اسم کی جگہ آئے اسے ضمیر کہتے ہیں [ وہ ہم تم میں، وغیرہ] عربی میں میر ایا میری کا مفہوم ہو تو ی لگ جاتی ہے۔] ، میرا اور ہم کے مفہوم میں نا لگتا ہے جیسے: ربی میرارب ، رَبُّنَا ہمارا رب، عِبَادِی میرے بندے ، رَسُولُنَا ہمارا رسول حروف جو اسم یا فعل کے ساتھ مل کر معنے دیں جیسے هَلْ [ کیا ] في [میں] إلى [طرف] على [پر] مِنْ [س]، حَتَّى [تک]، لَعَلَّ [ شاید]، فَ [پر]