حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 921
921 بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بُوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بُرا قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا ہے ا يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ (الحجرات : 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کاروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب بُرے کام ہیں۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 654-653) تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بد گمان ڈرتے رہو عقاب خُدائے جہان سے شاید تمھاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد نہ ہو جو تمھیں ہے وہ بد نما شاید تمہارے فہم کا ہی کچھ قصور ہو ! شاید سلوک کامل وہ آزمائش رب غفور ہو (براہین احمدیہ جلد پنجم۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 19-18) وژه إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرَامِّنُ طِيْنِ۔فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ۔فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ۔(ص: 72 تا 75) ط سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کر لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی روح اس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقاء باللہ کا درجہ حاصل کرتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اس پر شروع ہو جاتا ہے۔اگر چہ سلوک کی ابتدائی حالت میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجالا رہے ہیں۔( توضیح مرام -ر-خ- جلد 3 صفحہ 77-76) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ۔(الحجر: 30) یعنی جب میں نے اس کا قالب بنالیا اور تجلیات کے تمام مظاہر درست کر کئے اور اپنی روح اس میں پھونک دی تو تم سب لوگ اس کے لئے زمین پر سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ سو اس آیت میں بھی یہی اشارہ ہے کہ جب اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس قالب میں وہ روح چمک اٹھتی ہے جس کو خدائے تعالیٰ اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے کیونکہ دنیوی زندگی کے فنا کے بعد وہ قالب تیار ہوتا ہے اس لئے الہی روشنی جو پہلے دھیمی تھی ایک دفعہ بھڑک اٹھتی ہے اور واجب ہوتا ہے کہ خدا کی ایسی شان کو دیکھ کر ہر ایک سجدہ کرے اور اس کی طرف کھنچا جائے۔سو ہر ایک اس نور کو دیکھ کر سجدہ کرتا ہے اور طبعا اس طرف آتا ہے بجز ابلیس کے جو تاریکی سے دوستی رکھتا ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 322)