حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 920
920 صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جور و بیابا وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے۔انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے۔اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا کہ وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِى وفی وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا۔الہامی اشعار صادق آن باشد که ایام بلا ے ( ملفوظات جلد سوم صفحه 637) گذارد با محبت با وفا صادق وہ ہوتا ہے کہ ابتلاؤں کے دن محبت اور وفاداری سے گذارتا ہے۔گر قضا را عاشقه گردد اسیر! بوسد آں زنجیر را کز آشنا! اگر قضائے الہی سے عاشق قید ہو جاتا ہے تو وہ اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہو۔مزید فرمایا (کتاب البرية -ر خ- جلد 13 ٹائٹیل پیچ ) ( درشین فارسی صفحه 220 ) يارب مرا بہر قدمم استوار دار داں روز خود مباد کہ عہد تو بشکنم اے رب مجھے ہر قدم پر مضبوط رکھ اور ایسا کوئی دن نہ آئے کہ میں تیرا عہد توڑوں۔در کوئے تو اگر سرعشاق را زنند اول کسیکه لاف تعشق زند منم! اگر تیرے کوچہ میں عاشقوں کے سرا تارے جائیں تو سب سے پہلے جو عشق کا دعویٰ کرے گا وہ میں ہوں گا۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 658) ( درشین فارسی متر جم صفحه 195) غیبت اور سوءظن وَلَا يَغْتَب بَعْضُكُمْ بَعْضًا اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ (الحجرات:13) اپنے بھائی کا گلہ کر نامردہ کھانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے وَلَا يَغْتَبُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً فَكَرِهْتُمُوهُ (الحجرات: 13) یعنی ایک مسلمان کو چاہیئے کہ دوسرے مسلمان کا گلہ نہ کرے۔کیا کوئی مسلمان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاوے۔(ست بچن۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 260) فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔بدظنی بہت بُری چیز ہے انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 375)