حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 917
917 متفرق اخلاق حسنہ نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے۔اگر صدق اور اخلاص کے قفس میں اسے قید رکھو گے تو وہ رہے گا ور نہ پرواز کر جاوے گا اور یہ بجز خدا کے فضل کے حاصل نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (الكهف: 111) عمل صالح سے یہاں یہ مراد ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو صلاحیت ہی صلاحیت ہو۔نہ عجب ہو۔نہ کبر ہو۔نہ نخوت ہو۔نہ تکبر ہو۔نہ نفسانی اغراض کا حصہ ہو۔نہ رو بخلق ہو۔حتی کہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہ ہو صرف خدا کی محبت سے وہ عمل صادر ہو۔جب تک دوسری کسی قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھوکر کھائے گا اور اس کا نام شرک ہے کیونکہ وہ دوستی اور محبت کس کام کی جس کی بنیاد صرف ایک پیالہ چائے یا دوسری خالی محبوبات تک ہی ہے۔ایسا انسان جس دن اس میں فرق آتا دیکھے گا اسی دن قطع تعلق کر دے گا۔جو لوگ خدا سے اس لئے تعلق باندھتے ہیں کہ ہمیں مال ملے یا اولاد حاصل ہو یا ہم فلاں فلاں امور میں کامیاب ہو جاویں ان کے تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور ایمان بھی خطرہ میں ہے جس دن ان کے اغراض کو کوئی صدمہ پہنچا اسی دن ایمان میں بھی فرق آ جاوے گا۔اس لئے پکا مومن وہ ہے جو کسی سہارے پر خدا کی عبادت نہیں کرتا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 102) وہ دور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دُور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اُس یار کے لئے رو عشرت کو چھوڑ رو لعنت کی ہے یہ راہ سو لعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول تا تم ملائکہ عرش کا نزول اسلام چیز کیا ہے ؟ خدا کے لئے فتا ترک رضائے خویش پے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل و جو وہ خاکسار اے کرم خاک ! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرت رب غیور کو وہ ہے ہے بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں چھوڑ و غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولیٰ اسی میں ہے (براہین احمدیہ جلد پنجم۔رخ۔جلد 21 صفحہ 18-17)