حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 916 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 916

916 لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ۔كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللهِ اَنْ تَقُولُوا مَالَا تَفْعَلُونَ۔(الصف: 3-4) اسلام کا دعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت تو بہ کرنا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں۔منہ سے دعویٰ کرنا اور عمل سے اس کا ثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا نا ہے اور اس آیت کا مصداق ہو جاتا ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَالَا تَفْعَلُونَ۔یعنی اے ایمان والو م وہ بات کیوں کہتے ہو جوتم نہیں کرتے ہو۔یہ امر کہ تم وہ باتیں کہو جن پر تم عمل نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کا موجب ہے۔پس وہ انسان جس کو اسلام کا دعوی ہے یا جو میرے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو اس دعوی کے موافق نہیں بنا تا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے غضب کے نیچے آ جاتا ہے اس سے بچنا لازم ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 351) مقت خدا کے غضب کو کہتے ہیں۔یعنی بڑا غضب ان پر ہوتا ہے جو اقرار کرتے ہیں اور پھر کرتے نہیں۔ایسے آدمی پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔اس لئے دعائیں کرتے رہو۔کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 174) اصل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی چاہیئے۔صرف زبان سے کہہ دینا کہ میں نے بیعت کر لی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے۔صرف زبان کچھ نہیں بنا سکتی۔قرآن شریف میں آیا کہ لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ۔كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۔(الصف : 3-4) یہ وقت ہے کہ سابقون میں داخل ہو جاؤ یعنی ہر نیکی کے کرنے میں سبقت لے جاؤ۔اعمال ہی کام آتے ہیں زبانی لاف و گزاف کسی کام کی نہیں۔دیکھو حضرت فاطمہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ فاطمہ اپنی جان کا خود فکر کرلے میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا۔بھلا خدا کا کسی سے رشتہ تو نہیں وہاں یہ نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے بلکہ اعمال کی پرسش ہوگی۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 453)