حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 914
914 تو کل کی تعریف ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 146) تو کل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کیے ہوئے ہیں ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاوں میں لگ جاؤ کہ (اے ) خدا تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو ان اسباب کو بھی بر باد وتہ و بالا کر سکتے ہیں ان کی دست برد سے بچا کر ہمیں کچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (آل عمران:160) ایک شخص نے اپنی خانگی تکالیف کا ذکر کیا فرمایا پورے طور پر خدا پر تو کل یقین اور امید رکھو تو سب کچھ ہو جاوے گا اور ہمیں خطوط سے ہمیشہ یاد کراتے رہا کرو ہم دعا کریں گے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 550) انسان کو مشکلات کے وقت اگر چہ اضطراب ہوتا ہے مگر چاہیئے کہ تو کل کو کبھی بھی ہاتھ سے نہ دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بدر کے موقع پر سخت اضطراب ہوا تھا چنانچہ عرض کرتے تھے کہ يَا رَبِّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اَبَدًا۔مگر آپ کا اضطراب فقط بشری تقاضا سے تھا کیونکہ دوسری طرف تو کل کو آپ نے ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دیا تھا۔آسمان کی طرف نظر تھی اور یقین تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔یاس کو قریب نہیں آنے دیا تھا۔ایسے اضطرابوں کا آنا تو انسانی اخلاق اور مدارج کی تکمیل کے واسطے ضروری ہے مگر انسان کو چاہیئے کہ یاس کو پاس نہ آنے دے۔کیونکہ یاس تو کفار کی صفت ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 133) امتني في المَحَبَّةِ والوداد و كُن في هذه لى و المعاد ولم يبقَ الهُمُوم لنا بأنَّا توكلنا على ربّ العباد ( ترجمہ از مرتب ) مجھے اپنی محبت میں مار۔اور اس دنیا اور آخرت میں تو میرا ہو جا۔اور ہمیں کوئی غم نہیں رہے۔کیونکہ ہم نے رب العباد پر تو کل کی۔( تذکرہ صفحہ 779) غصہ پر صبر وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا۔(الفرقان: 73) یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان کسی کا مقابلہ کرتا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ کہنا ہی پڑتا ہے جیسے مقدمات میں ہوتا ہے۔اس لئے آرام اسی میں ہے کہ تم ایسے لوگوں کا مقابلہ ہی نہ کرو۔سید باب کا طریق رکھو اور کسی سے جھگڑا مت کرو۔زبان بند رکھو۔گالیاں دینے والے کے پاس سے چپکے گذر جاؤ گویا سناہی نہیں اور ان لوگوں کی راہ اختیار کرو جن کے لئے قرآن شریف نے فرمایا وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا۔اگر یہ باتیں اختیار کر لو گے تو یقیناً یقینا اللہ تعالیٰ کے بچے مخلص بن جاؤ گے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 131)