حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 913
913 اس سے اچھا ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اسکو مٹی سے ) نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بارگاہ الہی سے مردود ہو گیا۔اس لیے ہر ایک کو اس سے بچنا چاہیئے۔جب تک انسان کو کامل معرفت الہی حاصل نہ ہو وہ لغزش کھاتا ہے اور اس سے متنبہ نہیں ہوتا مگر معرفت الہی جس کو حاصل ہو جائے اگر چہ اس سے کوئی لغزش ہو بھی جاوے تب بھی اللہ تعالئے اس کی محافظت کرتا ہے۔چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش پر اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور سمجھ لیا کہ سوائے فضل الہی کے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لیے دعا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ۔(الاعراف:24) (اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تیری حفاظت ہمیں نہ بچاوے اور تیرا رحم ہماری دستگیری نہ کرے تو ہم ضرور ٹوٹے والوں میں سے ہو جاویں) کوئی ( تقریر جلسہ سالانہ 29 دسمبر 1904 صفحہ 19-20) ( تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جلد چہارم صفحہ 149) نہیں ملتا ނ ملے جو خاک سے اسکو ملے یار دلدار وہ اس پاک سے جو دل لگا وے کرے پاک آپ کو تب اسکو پاوے کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ اپنی بدی سے بے خبر ہے و گمراه ہے بدی پر عجب ناداں ہے وہ مغرور و غیر کی ہردم نظر (حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 551) توکل مَنْ يَّتَّقِ اللهَ يَجْعَلُ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔(الطلاق: 4-3) ہم ایسے مہوسوں کو ایک کیمیا کا نسخہ بتلاتے ہیں بشرطیکہ وہ اس پر عمل کریں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔(الطلاق: 4-3) پس تقویٰ ایک ایسی چیز ہے کہ جسے یہ حاصل ہوا سے گویا تمام جہاں کی نعمتیں حاصل ہو گئیں۔یاد رکھو متقی کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اس مقام پر ہوتا ہے کہ جو چاہتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے اس کے مانگنے سے پہلے مہیا کر دیتا ہے۔میں نے ایک دفعہ کشف میں اللہ تعالیٰ کو تمثل کے طور پر دیکھا۔میرے گلے میں ہاتھ ڈال کر فرمایا۔جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو پس یہ وہ نسخہ ہے جو تمام انبیاء واولیاء و صلحاء کا آزمایا ہوا ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 201) تو کل کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے۔جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے اس کو سوائے ذلت کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہمیشہ سے سنت اللہ یہی چلی آتی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں وہ اس کو پاتے ہیں اور جو اس کے پیچھے دوڑتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں تو وہ لا حاصل ہے کیونکہ آخر ان کو سخت نا کامی دیکھنی پڑتی ہے۔اسلام میں عمدہ لوگ وہی گذرے ہیں جنہوں نے دین کے مقابلہ میں دنیا کی کچھ پرواہ نہ کی۔ہندوستان میں قطب الدین اور معین الدین خدا کے اولیاء گذرے ہیں ان لوگوں نے پوشیدہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر خدا تعالیٰ نے ان کی عزت کو ظاہر کر دیا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 249-248)