حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 909
909 لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ به عَلِيمٌ۔(آل عمران: 93) بیکار اور لکھی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔پس یہ امر ذہن نشین کر لوکہ لکھی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ نص صریح ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟ کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لیے کس قدراخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولا کریم کی رضامندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا؟ بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں خدا ٹھگا نہیں جاتا۔مبارک ہیں وہ لوگ ! جو رضائے الہی کے حصول کے لیے تکلیف کی پروانہ کریں۔کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 47) صبر رضوان و قرب الہی حاصل کرنے کے لئے دو ہی طریق ہیں۔ایک تو تشریعی احکام سے ترقی ہوتی ہے اسی لئے تشریعی تکالیف فرمائیں مگر یہ وہ تکالیف ہیں جن سے انسان بچ سکتا ہے دوسرے وہ تکالیف ہیں جو خدا انسان کے سر پر ڈالتا ہے۔کسی کے ہاتھ میں تازیانہ دے کر اسے کہا جاتا ہے کہ تو اپنے بدن پر آپ مار تو وہ حتی الامکان ایسا نہ کرے گا کیونکہ انسان اپنے تئیں دکھ نہیں دینا چاہتا پس جو تکالیف اختیار میں ہیں ان سے بیچ کر وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا مگر جو تکالیف خدا کی طرف سے ہوں وہ جب انسان پر پڑتی ہیں اور وہ ان پر صبر کرتا ہے تو اس کی ترقی کا موجب ہو جاتی ہیں۔غرض تکالیف دو قسم کی ہیں۔ایک وہ حصہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے مگر اس میں بہانوں کی گنجائش ہے۔صوم و زکوۃ وصلوۃ و حج جب تک پورا اخلاق نہ ہو۔انسان ان سے پہلو تہی کر سکتا ہے پس اس کسر کو نکالنے کے لئے تکالیف سماویہ کا ورود ہوتا ہے تا کہ جو کچھ انسانی ہاتھ سے پورا نہیں ہوا وہ خدا کی مدد سے پورا ہو جائے۔آریہ کہتے ہیں تکالیف کسی پچھلے کرم کی سزا میں ہیں ہم کہتے ہیں یہ آئندہ ترقیات کے لئے ہیں ورنہ جپ تپ کرنا بھی ایک سزا ہو گا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 662-661)