حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 905 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 905

905 تیر ہویں فصل اخلاق کا فلسفہ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ۔(القيمة: 3) اخلاقی حالتوں کے سر چشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ الدَّوَّامَةِ یعنی میں اس نفس کی قسم کھا تا ہوں جو بدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔یہ نفس لوامہ انسانی حالتوں کا دوسرا سر چشمہ ہے جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پاتا ہے اور اس جگہ نفس لوامہ کی قسم کھا نا اس کو عزت دینے کے لئے ہے گویا وہ نفس امارہ سے نفس لوامہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الہی میں عزت پانے کے لائق ہو گیا اور اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں شتر بے مہار کی طرح چلے اور چار پایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے اور طبعی جذبات اور طبعی خواہشیں عقل کے مشورہ سے ظہور پذیر ہوں۔پس چونکہ وہ بُری حرکت پر ملامت کرتا ہے اس لئے اس کا نام نفس لوامہ ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 318-317) کل صفات نیک ہیں مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ - اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کے بے موقع اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ بُرے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر شکل اور موقع پر استعمال کیا جاوے ثواب کا موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے اور مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَد (الفلق : 6) اور دوسری جگہ۔اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ۔اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے۔سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے۔اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔سابقون گویا حاسد ہی ہوتے ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفی ہو کر سابق ہو جاتا ہے۔اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 197)