حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 892
892 وَ مَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلُ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4) تقومی اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے در نہ نادان ہوگا۔خدا تعالیٰ فرماتا وَ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِب (الطلاق:3-4) که جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لئے پیدا کر دیتا ہے۔متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 486) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ ط سَيّاتِكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ * وَ اللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔(الانفال: 30) اے ایمان لانے والا اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا۔وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا۔جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا۔تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن را ہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری راہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔(آئینہ کمالات اسلام - رسخ جلد 5 صفحہ 178-177) وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي ط بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔(حم السجده:35) تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب خود پسندی۔مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ادْفَعُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن۔اب خیال فرمائیے یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی دے تو اس کو جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہوگی جو انتظامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں۔خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔کیا اچھا کہا ہے کہ۔لطف کن لطف که بیگانه شود حلقه بگوش ( ملفوظات جلد اول صفحه 51-50)