حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 887
887 استغفار اور توبہ کا فلسفہ فَاقِمُ وَجُهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ * ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔(الروم: 31) سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجود روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اس کو کون دور کرے۔ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔وہ کیا ہے؟ تو بہ واستغفار اور ندامت پھینے جب کہ برافعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو۔یا حسب خاصہ فطرتی کوئی برا خیال دل میں آوے۔تو اگر وہ تو بہ اور استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔جب وہ بار بار ٹھو کر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور تو بہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔ومـن يـعـمــل سـوء او يظلم نفسه ثم يستغفر الله يـجـدالله غفورا رحيما۔(النساء: 111) الجز نمبر۔یعنے جس سے کوئی بدعملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس ناقصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے۔اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے اتنے اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں۔بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔اپنے جب کبھی کوئی بشر بر وقت صدور لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے۔اور یہ رجوع الہی بندہ نادم تائب کی طرف ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے اور جب تک کوئی گنہ گار تو بہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھوکر نہ کھاویں۔یا جو لوگ قومی بہیمیہ یا غضبیہ کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے۔بلکہ اس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں۔لیکن جو شخص بعض قوتوں میں فطرتا ضعیف ہیں وہ قوی نہیں ہوسکتا۔اس میں تبدیل پیدائش لازم آتی ہے اور وہ بداہتا محال ہے اور خود مشہور و محسوس ہے۔(براہین احمدیہ رخ جلد 1 صفحہ 187 186 حاشیہ)