حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 861 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 861

861 قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَ مَحَيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔(الانعام: 163) کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے۔تب خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اوران دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی۔اسلامی اصول کی فلاسفی رخ جلد 10 صفحہ 384) ط وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَاَمْنًا ، وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِم مُصَلَّى ، وَ عَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِمَ وَ إِسْمَعِيلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ۔(البقره: 126) آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِمَ مُصَلَّى - اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اربعین-رخ- جلد 17 صفحہ 421) اس ابراہیم کا پیر و ہوگا۔تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ۔اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔(اربعین-رخ- جلد 17 صفحہ 421-420) نماز میں توجہ اور حضوری دعا میں سورت فاتحہ کے تکرار کا اثر نماز میں سورۃ فاتحہ کی دعا کا تکرار نہایت موثر چیز ہے۔کیسی بے ذوقی و بے مزگی ہو اس عمل کو برابر جاری رکھنا چاہیے یعنی کبھی تکرار آیت ایاک نعبد و ایاک نستعین کا اور کبھی تکرار آیت احد نا الصراط المستقیم کا اور سجدہ میں يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيتُ۔( تفسیر سورۃ فاتحہ از حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 22 ) ( الحکم 20 فروری1898 صفحہ 9) سورت فاتحہ کا ورد نماز میں بہتر ہے۔بہتر ہے کہ نماز تہجد میں اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم کا بدلی توجہ و خضوع تکرار کریں اور اپنے دل کو نزول انوار الہیہ کے لیے پیش کریں اور کبھی تکرار آیت ایاک نعبد و ایاک نستعین کا کیا کریں۔ان دونوں آیتوں کا تکرار انشاء اللہ القدیر تنویر قلب و تزکیہ نفس کا موجب ہوگا۔(الحکم 24 جون 1903 صفحہ 3)