حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 857 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 857

857 نیکی خالص اللہ کے لئے لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شَكُورًا (الدهر :10) لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شَكُورًا یعنی خدا رسیدہ اور اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ اس کی نیکی خالصتا اللہ ہوتی ہے اور اس کے دل میں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ اس کے واسطے دعا کی جاوے یا اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع انسان کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے۔ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی اور نہ انجیل میں۔ورق ورق کر کے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام ونشان نہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 664) کامل راست باز جب غریبوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں تو محض خدا کی محبت سے دیتے ہیں نہ کسی اور غرض سے دیتے ہیں اور وہ انہیں مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ یہ خدمت خاص خدا کے لئے ہے۔اس کا ہم کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا شکر کرو۔لیکچر لاہور۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 156 ) إِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبه : 120) یاد رکھ کسی نیکی کو بھی اس لئے نہیں کرنا چاہئے کہ اس نیکی کے کرنے پر ثواب یا اجر ملے گا کیونکہ اگر محض اس خیال سے نیکی کی جاوے تو وہ ابتغاء مرضات اللہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس ثواب کی خاطر ہوگی۔اور اس سے اندیشہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت وہ اسے چھوڑ بیٹھے۔مثلاً اگر کوئی شخص ہر روز ہم سے ملنے کو آ وے اور ہم اس کو ایک روپیہ دے دیا کریں تو وہ بجائے خود یہی سمجھے گا کہ میرا جانا صرف روپے کے لئے ہے جس دن سے روپیہ نہ ملے اسی دن سے آنا چھوڑ دے گا۔غرض یہ ایک قسم کا بار یک شرک ہے اس سے بچنا چاہئے نیکی کومحض اس لئے کرنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو۔قطع نظر اس کے کہ اس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور و ہم درمیان سے اٹھ جاوے اگر چہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْـــرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبه : 120) مگر نیکی کرنے والے کو اجر مد نظر نہیں رکھنا چاہیئے۔دیکھو اگر کوئی مہمان یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا۔ٹھنڈے شربت ملیں گے یا تکلف کے کھانے ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے حالانکہ خود میزبان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچاتا ہے لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 562-561)