حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 844 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 844

844 اس قدر بڑے ہیں کہ ان میں پورا چہرہ نظر آ سکتا ہے پس اس میں شک نہیں کہ اگر چہ چہرہ ایک ہی ہے لیکن جس قدر آئینہ چھوٹا ہو گا چہرہ بھی اس میں چھوٹا دکھائی دیگا۔یہاں تک کہ بعض نہایت چھوٹے آئینوں میں ایک نقطہ کی طرح چہرہ نظر آئے گا اور ہرگز پورا چہرہ نظر نہیں آئے گا جب تک پورا آئینہ نہ ہو پس اس میں کچھ شک نہیں کہ چہرہ تو ایک ہے اور یہ بات واقعی صحیح ہے لیکن جو بظاہر مختلف آئینوں میں نظر آتا ہے اس کی نسبت یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ وہ باعتبار اس نمائش کے ایک چہرہ نہیں ہے بلکہ کئی چہرے ہیں اسی طرح ربوبیت الہیہ ہر ایک کے لیے ایک درجہ پر ظاہر نہیں ہوتی انسانی نفس تزکیہ کے بعد ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے جس میں ربوبیت الہیہ کا چہرہ منعکس ہوتا ہے مگر گوکسی کے لیے تزکیہ نفس حاصل ہو گیا ہو مگر فطرت کے لحاظ سے تمام نفوس انسانیہ برابر نہیں ہیں کسی کا دائرہ استعداد بڑا ہے اور کسی کا چھوٹا۔جس طرح اجرام سماویہ چھوٹے بڑے ہیں۔پس جو چھوٹی استعداد کانفس ہے گو اس کا تزکیہ بھی ہو گیا مگر چونکہ استعداد کی رو سے اس نفس کا ظرف چھوٹا ہے اس لیے ربوبیت الہیہ اور تجلیات ربانیہ کا عکس بھی اس میں چھوٹا ہوگا۔پس اس لحاظ سے اگر چہ رب ایک ہے لیکن ظروف نفسانیہ میں منعکس ہونے کے وقت بہت سے رب نظر آئیں گے۔یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہی کہتے تھے کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظیم یعنے میرا رب سب سے بڑا اور بزرگ ہے۔پس اگر چہ رب تو ایک ہے مگر تجلیات عظیمہ اور ربوبیت عالیہ کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب سب سے اعلیٰ ہے۔(چشمہ معرفت - ر - خ - جلد 23 صفحہ 348-347) أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ ط زَبَدَارًا بِيًا ، وَ مِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْمَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَاَمَّا الذَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ۔(الرعد : 18) خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام ) اتار اسو اس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلا۔یعنی ہر یک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔طبایع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں اور جوان سے بھی اعلیٰ تھے ان سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جاپہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 212 حاشیہ نمبر 11)