حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 832 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 832

832 پانچویں فصل طریقت کی تعریف وقيل ان الطريق لا يسمى صراطا عند قوم ذوی قلب و نور حتى يتضمن خمسة امور من امور الدين۔و هى الاستقامة و الايصال الى المقصود باليقين و قرب الطريق و سعته للمارين و تعيينه طريقا للمقصود في اعين السالكين۔و هو تارة يضاف الى الله اذ هو شرعه و هو سوى سبله للماشين و تارة يضاف الى العباد لكونهم اهل السلوك و المارين عليها و كرامات الصادقين۔ر۔خ۔جلد 7 صفحه 137) العابرين۔ترجمہ:۔اور کہتے ہیں کہ صاحب دل اور روشن ضمیر لوگوں کے نزدیک طریق (راستہ) کو اس وقت تک صراط کا نام نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ امور دین میں سے پانچ امور پرمش مشتمل نہ ہو اور وہ یہ ہیں:۔(1) استقامت (2) یقینی طور پر مقصود تک پہنچانا (3) اس کا نزدیک ترین ( راہ ) ہونا۔(4) گزرنے والوں کے لیے اس کا وسیع ہونا۔اور (5) سالکوں کی نگاہ میں مقصود تک پہنچنے کے لیے اس راستہ کا متعین کیا جاتا۔اور صراط کا لفظ کبھی تو خدا تعالیٰ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی شریعت ہے او وہ چلنے والوں کے لیے ہموار راستہ ہے۔اور کبھی اسے بندوں کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس پر چلنے والے اور گزرنے والے اور اسے عبور کرنے والے ہیں۔الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا آدَبٌ ایک شخص نو مسلم چکڑالوی کے خیالات کا متبع آیا ہوا تھا۔اس نے نشان دیکھنا چاہا حضرت حجتہ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے سوال کو طریق ادب و طالب کے خلاف پا کر حکم دیا تھا کہ تم واپس چلے جاؤ۔اس پر اس نے ایک معافی نامہ پیش کیا جس پر حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا:۔یہ بات محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے کہ کوئی بات کسی کو سمجھا دے لیکن اسے سمجھ دیتا ہے جو ادب کے طریق پر سچا طالب ہو کر تلاش کرتا ہے الطريقة كلها ادب خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت و معرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ہم میں ہو کر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بناء پر خدا جوئی اپنا مقصد رکھ کر۔لیکن اگر کوئی استہزاء اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے۔وہ بدنصیب محروم رہ جاتا ہے۔پس اسی پاک اصول کی بناپر اگر تم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہوتو وہ غفور رحیم ہے لیکن اگر کوئی اللہ تالے کی پروانہیں کرتاوہ بے نیاز ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 640)