حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 56
56 حضرت اقدس قرآن کریم کے وارث ہیں اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کیلئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کیلئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قو تیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کیلئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دیے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کیلئے مناسب وقت تھا۔مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسی کو وہ معارف اور نشان دئے جاتے۔کیونکہ اس وقت انکی ضرورت ی تھی اس لئے حضرت عیسی کی سرشت کو صرف وہ قوتیں اور طاقتیں دی گئیں جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقہ کی اصلاح کیلئے ضروری تھیں اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے تمام دنیا کیلئے ہے۔مگر حضرت عیسی صرف توریت کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے اسی وجہ سے انجیل میں ان کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں جو توریت میں مخفی اور مستور تھیں لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی امر زیادہ بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے اور وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 155) و استمرت عادته انه اذا جاء زمان الظلام و جعل دين الاسلام غرض اور عادت اسی طرح پر جاری ہے کہ جب تاریکی کا زمانہ آجائے اور دین اسلام تیروں کا نشانہ ٹھہرایا جاوے السهام وطال عليه السنة الخواص والعوام و اختار الناس طرق الارتداد اور اس پر خواص اور عوام کی زبانیں جاری ہوں اور لوگ ارتداد کے طریقے اختیار کریں وافسدوا فى الارض غاية الافساد فتتوجه القيومية الالهية الــى حـفـظــه اور زمیں میں نہایت درجہ کا فساد ڈالدیں پس قیومیت الہیہ توجہ فرماتی ہے کہ تا دین کی حفاظت کرے وصيانته ويبعث عبد الاعانته فيجدد دين الله بعلمه وصدقه و امانته و اور کوئی بندہ اس کی اعانت کیلئے کھڑا کر دیتا ہے پس وہ دین اسلام کو اپنے علم اور صدق اور امانت کے ساتھ يجعل الله ذلك المبعوث زكيا و بالفيوض حريا و يكشف عينـه ويـهـب لــه تازہ کر دیتا ہے۔اور خدا اس مبعوث کو ذکی اور لائق فیض بناتا ہے اور اس کی آنکھ کھولتا ہے اور اسکو تازہ بتازہ علماغضا طــريــا ويـجـعـلـه لـعـلـوم الانبياء من الوارثين ـ فـيــاتـي في حلل علم بخشتا ہے اور نبیوں کے علموں کا اس کو وارث ٹھہراتا ہے۔پس وہ ایسے پیرایوں میں تقابل حلل فساد الزمان وما يقول الا مـا عـلـمـه لـســـان الـرحــمــان و آتا ہے جو فساد زمانہ کے پیرایوں کے مقابل پر ہوتے ہیں اور وہی کہتا ہے جو خدا کی زبان نے اسے سکھایا ہو اور تعطى لــه فـنـعـن مـن مبدء الفيضان عـلـى مـنـاسبـات فســادا هـل الـبـلـدان مبدء فیضان سے کئی قسم کے علم اس کو دیئے جاتے ہیں جو زمانہ کے فساد کے موافق ہوں۔نور الحق حصہ دوم۔رخ جلد 8 صفحہ 236 )