حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 828
828 گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اک یہی دیں کیلئے ہے جائے عزّ و و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اسپہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفان مولی کا نشان جس کو یہ کامل ملے اسکو ملے وہ دوستدار ( براھین احمدیہ - ر- خ - جلد 21 صفحہ 137 ) ( در شین اردو صفحہ 128-127) ہے کامل معرفت کے لئے الہام ضروری ہے علاوہ اس کے اگر وحی نہ ہو تو پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : 6-7) کے کیا معنے ہوں گے کیا یہاں انعام سے مراد گوشت پلا دوغیرہ ہے یا خلعت نبوت اور مکالمہ والہی وغیرہ جو کہ انبیاء کو عطا ہوتا رہا۔غرضکہ معرفت تمام انبیاء کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔جس غرض کے لیے انسان اسلام قبول کرتا ہے۔اس کا مغز یہی ہے کہ اسکے اتباع سے وحی ملے۔اور پھر اگر وحی منقطع ہوئی مانی بھی جاوے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع ہوئی نہ اس کے اظلال اور آثار بھی منقطع ہوئے۔وہ وحی والہام کا دروازہ کھلا ہے ( ملفوظات جلد سوم صفحه 417) دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے نہ الہام ہے نہ پیوند ہے نہیں عقل اس کو نہ کچھ غور کرا ہے وید ہے یا کوئی اور ہے سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں تو ہو جائے راه زیر و زبر اگر اس طرف سے نہ آوے خبر طلب گار ہو جائیں اس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ مگر کوئی معشوق ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض وکیں تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب اگر وہ نہ بولے تو کیونکر کوئی یقیں کر کے جانے کہ خدا پر کرتا خود ہے وہ اپنے الغیب ہے ہے مختفی رہ میں نہیں نامراد کوئی اس کی بھگتوں کو یاد ست بچن۔۔۔خ۔جلد 10 صفحه 166 ) ( در شین اردو صفحه 21)