حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 819
819 تیسری فصل ذکر الہی۔یا دالہی فَاذْكُرُونِى اَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ۔(البقرة: 153) اے میرے بندو تم مجھے یاد کیا کرو اور میری یاد میں مصروف رہا کرو میں بھی تم کو نہ بھولوں گا تمہارا خیال رکھونگا اور میرا شکر کیا کرو میرے انعام کی قدر کیا کرو اور کفر نہ کیا کرو۔اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ذکر الہی کے ترک اور اس سے غفلت کا نام کفر ہے پس جو دم غافل وہ دم کا فروالی بات صاف ہے۔(ملفوظات جلد سوم 189) حقیقی آداب ذکر الہی فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا۔(البقرة: 201) فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔یا درکھنا چاہیے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہو جاتا ہے جب محبت میں غایت درجہ شدت واقعہ ہو جاتی ہے۔اور حب جو ہر یک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہو جاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے ایک روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خو اور بو بصفائی تام اس میں پائی جاتی ہے علی ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے۔سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 260-259 حاشیہ ) یعنی اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح پر تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اس جگہ دورمز ہیں ایک تو ذکر اللہ کو ذکر اباء سے مشابہت دی ہے اس میں یہ سر ہے کہ اباء کی محبت ذاتی اور فطرتی محبت ہوتی ہے۔دیکھو بچہ کو جب ماں مارتی ہے وہ اس وقت بھی ماں ماں ہی پکارتا ہے گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے فطری محبت کا تعلق پیدا کرے اس محبت کے بعد اطاعت امر اللہ کی خود بخود پیدا ہوتی ہے۔یہی وہ اصلی مقام معرفت کا ہے جہاں انسان کو پہنچنا چاہیے یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے فطری اور ذاتی محبت پیدا ہو جاوے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 556-555)