حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 818
818 آں رسولی کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام! وہ رسول جس کا نام محمد ہے۔اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔جان شد و با جان بدر خواهد شدن مهر او با شیر شد اندر بدن اس کی محبت ماں کے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی۔هست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام وہی خیر الرسل اور خیر الا نام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اس پر ہوگئی۔ما از و نوشیم ہر آبے کہ ہست زو شده سیراب سیرا بے کہ ہست جو بھی پانی ہے وہ ہم اسی سے لے کر پیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اسی سے سیراب ہوا ہے۔آنچه ما را وحی و ایمائے بود! آن نه از خود از ہماں جائے بود! جو وحی والہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں وہیں سے آتا ہے۔ما از و یا بیم ہر نور و کمال! وصل دلدار ازل بے او محال! ہم ہر روشنی اور ہر کمال اسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب از لی کا وصل بغیر اس کے ناممکن ہے۔افتدائے قول او در جانِ ماست ہرچہ زو ثابت شود ایمان ماست اس کے ہر ارشاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی اس کا فرمان ہے اس پر ہمارا پورا ایمان ہے۔(سراج منیر۔ر-خ- جلد 12 صفحه 95 ) ( در نمین فارسی متر جم صفحه 225) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی مقام سوال: مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے ” میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور باندے ہو کہ میں تمہیں آرام دونگا۔اور یہ کہ ”میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں میں زندگی اور راستی ہوں۔کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کیے ہیں۔الجواب: قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔الخ (ال عمران : 32) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے۔کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ (372) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا مقام تو یہ تھا کہ آپ محبوب الہی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی اس مقام پر پہنچنے کی راہ بتائی جیسا کہ فرمایا۔قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم کو اپنا محبوب بنالے گا۔اب غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع محبوب الہی بنادیتی ہے۔تو پھر اور کیا چاہیئے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 407)