حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 804
804 محبت کا لفظ حقیقی طور سے خدا کے لئے خاص ہے اور اس سوال کی تیسری جزیہ ہے کہ قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انسان انسان کے ساتھ محبت کرے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے اس جگہ بجائے محبت کے رحم اور ہمدردی کا لفظ لیا ہے کیونکہ محبت کا انتہا عبادت ہے اسلئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔اور نوع انسان کیلئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا۔اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔میں یقین نہیں رکھتا کہ یسوع کے منہ سے ایسا مشر کا نہ لفظ نکلا ہو۔بلکہ میرا گمان ہے کہ پیچھے سے یہ مکروہ الفاظ انجیلوں میں ملا دیئے گئے ہیں۔محبت کا لفظ جہاں کہیں با ہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے۔اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔انسان کے معانی ہیں دو انس (سراج الدین عیسائی کے چارسوالوں کا جواب۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 369 مع حاشیہ ) حکمت الہیہ نے آدم کو ایسے طور سے بنایا کہ فطرت کی ابتدا سے ہی اس کی سرشت میں دو قسم کے تعلق قائم کر دیے۔یعنی ایک تعلق تو خدا سے قائم کیا جیسا قرآن شریف میں فرمایا فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِى فَقَعُوا لَهُ سَجِدِینَ یعنی جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنالوں اور میں اپنی روح اس میں پھونک دوں تو اے فرشتو اس وقت تم سجدہ میں گر جاؤ۔مذکورہ بالا آیت سے صاف ثابت ہے کہ خدا نے آدم میں اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی روح پھونک کر اس کی فطرت کو اپنے ساتھ ایک تعلق قائم کر دیا۔سو یہ اس لئے کیا گیا کہ تا انسان کو فطر تا خدا سے تعلق پیدا ہو جا دے۔ایسا ہی دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ ان لوگوں سے بھی فطرتی تعلق ہو جو بنی نوع کہلائیں گے کیونکہ جبکہ ان کا وجود آدم کی ہڈی میں سے ہڈی اور گوشت میں سے گوشت ہوگا تو وہ ضرور اس روح میں سے بھی حصہ لیں گے جو آدم میں پھونکی گئی۔( ریویو آف ریلیجنز جلد 11 نمبر 5 صفحہ 177-178 بابت مئی 1902 ) ( تفسیر حضرت اقدس جلد پنجم صفحہ 128) خدا تعالیٰ سے محبت کا طریق تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا للهِ (البقرة: 166) کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : 32) پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آجاوے کہ تَبَتِّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل: 9) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو ناپنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 559)