حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 779 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 779

779 تفسیر قرآن محاورات قرآن اور مصطلحات قرآن کے مطابق ہو بعض چالاکی سے قرآن شریف کے کھلے کھلے ثبوت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ لغت کی کتابوں میں کئی معنوں پر آیا ہے حالانکہ اپنے دلوں میں خوب جانتے ہیں کہ جن لفظوں کو قرآن شریف اصطلاحی طور پر بعض معانی کے لئے خاص کر لیتا ہے اور اپنے متواتر بیان سے بخوبی سمجھا دیتا ہے کہ فلاں معنے کے لئے اس نے فلاں لفظ خاص کر رکھا ہے اس معنے سے اس لفظ کو صرف اس خیال سے پھیر نا کہ کسی لغت کی کتاب میں اس کے اور معنے بھی آئے ہیں صریح الحاد ہے۔مثلا کتب لغت میں اندھیری رات کا نام بھی کافر ہے مگر تمام قرآن شریف میں کا فر کا لفظ صرف کا فردین یا کا فرنعمت پر بولا گیا ہے۔اب اگر کوئی شخص کفر کا لفظ الفاظ مروجہ فرقان سے پھیر کر اندھیری رات اس سے مراد لے اور یہ ثبوت دے کہ لغت کی کتابوں میں یہ معنے بھی لکھے ہیں تو سچ کہو کہ اس کا یہ ملحدانہ طریق ہے یا نہیں ؟ اسی طرح کتب لغت میں صوم کا لفظ صرف روزہ میں محدود نہیں بلکہ عیسائیوں کے گرجا کا نام بھی صوم ہے اور شتر مرغ کے سرگین کو بھی صوم کہتے ہیں۔لیکن قرآن شریف کی اصطلاح میں صوم صرف روزہ کا نام ہے۔اور اسی طرح صلوۃ کے لفظ کے معنے بھی لغت میں کئی ہیں مگر قرآن شریف کی اصطلاح میں صرف نماز اور درود اور دعا کا نام ہے۔یہ بات سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ہر ایک فن ایک اصطلاح کا محتاج ہوتا ہے اور اہل اس فن کے حاجات کے موافق بعض الفاظ کو متعدد معنوں سے مجرد کر کے کسی ایک معنی سے مخصوص کر لیتے ہیں۔مثلاً طبابت کے فن کو دیکھئے کہ بعض الفاظ جو کئی معنے رکھتے ہیں صرف ایک معنے میں اصطلاحی طور پر محصور ومحد ودر کھے گئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی علم بغیر اصطلاحی الفاظ کے چل ہی نہیں سکتا۔پس جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہ قرآن شریف کے معنے اس کے مروجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 350-349) یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خدا تعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنی توجہ سے تطبیق ہو سکتی ہے اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغییر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔آجکل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھا جائے جو مصر اور مکہ اور مدینہ اور دیار شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صرف ونحو کے تمام قواعد کی بیجگنی کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے اسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔( نزول المسیح - ر - خ - جلد 18 صفحہ 436)