حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 778 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 778

778 قرآن کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیئے وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ الآخر (المائده: 118-117) ہم علی وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں کہ توفی کے معنی لغت عرب میں اور کلام خدا اور رسول میں ہرگز مع جسم عنصری اٹھائے جانے کے نہیں ہیں۔تمام قرآن شریف کو یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیئے قرآن خدائے علیم وخبیر کی طرف سے کامل علم اور حکمت سے نازل کیا گیا ہے اس میں اختلاف ہر گز نہیں۔بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہوئی ہیں اگر ایک متشابہات ہیں تو دوسری محکمات ہیں۔جب یہی لفظ اور مقامات میں دوسرے انبیاء کے حق میں بھی وارد ہے تو اس کے معنے بجز موت کے اور کچھ نہیں لئے جاتے تو پھر نہ معلوم کہ کیوں حضرت مسیح کو ایسی خصوصیت دی جاتی ہے کیا ابھی تک مسیح کو خصوصیت دینے کا انہوں نے مزہ نہیں چکھا۔دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں صاف یہ لفظ ہیں إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس : 47) پھر حضرت یوسف کے متعلق بھی قرآن شریف میں یہی تو فی کا لفظ وارد ہے اور اس کے معنی بجز موت اور ہر گز نہیں دیکھو تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَّالْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ۔(يوسف: 102) یہ حضرت یوسف کی دعا ہے تو کیا اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ اے خدا مجھے زندہ مع جسم عصری آسمان پر اٹھالے اور پہلے صلحاء کے ساتھ شامل کر دے جو کہ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَصِفُوْنَ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل میں جو ساحر فرعون نے بلائے تھے ان کے ذکر میں تو فی کا لفظ مذکور ہے جہاں فرمایا۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ۔(الاعراف: 127) اب ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ خدا اور اس کے کلام کے مقابلہ میں دم مارے۔قرآن حضرت عیسیٰ کو سراسر مارتا ہے اور ان کے وفات پا جانے کو دلائل اور اور براہین قطعیہ سے ثابت کرتا ہے اور رسول اکرم نے اس کو معراج کی رات میں وفات یافتہ انبیاء میں دیکھا۔جائے غور ہے کہ اگر حضرت عیسی زندہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھائے جاچکے تھے تو پھر ان کو وفات شدہ انبیاء سے کیا مناسبت۔زندہ کو مردہ د سے کیا تعلق اور کیسی نسبت ؟ ان کے لئے تو کوئی الگ کوٹھڑی چاہیئے تھی۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 600-599)