حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 46
46 انبیا ء کا وجود قلی طور پر باقی رہتا ہے دوم جس طرح پر کہ مقتل اس بات کو واجب اور تم ٹھہرائی ہے کہ کتب الہی کی دائمی تعلیم اورتقسیم کیلئے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتا فوقتا ملہم اور مکلم اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں۔اسی طرح جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نگاہ سے اسکود یکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز بلند یہی فرمارہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کیلئے ہونا اس کے ارادہ قدیم میں مقرر ہو چکا ہے دیکھواللہ جلشانہ فرماتا ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد:18 ) الجز و نمبر 13 یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کو دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں جو خوارق سے معجزات سے پیشگوئیوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں۔لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دیگر معنی آیت کے یوں ہونگے کہ انبیاء من حیث الظل باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ ظلمی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کوان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے۔جو انہیں کے رنگ میں ہو کر انکی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلمی وجود قائم رکھنے کیلئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ (76) یعنی اے خدا ہمارے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کیلئے اس دعا میں حکم ہے اور وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور تائید سماوی اور قبولیت اور معرفت تامہ کاملہ اور وحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس انعام کے مانگنے کیلئے تبھی حکم فرمایا کہ اول اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کر لیا۔پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالی اس امت کو خلقی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتاہے تا انبیاء کا وجو قلقلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو اور نہ صرف دعا کیلئے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔(العنکبوت: 70) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کرینگے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دینگے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 352-351) اور کس انسان کی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا منجانب اللہ ہونا اس پر ثابت کیا جائے یونہی اس پر چھری پھیر دی جائے پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلمی طور پر انوار نبوت پا کر دنیا کو ملزم کریں۔اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اسکی پاک برکات لوگوں کو دکھلا دیں۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 341،342) آدمم نیز احمد مختار در برم جامه ہمہ ابرار میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی میرے جسم پر تمام ابرار کے خلعت ہیں کار ہائے کہ کرد با من یار برتر آن دفتر است از اظہار وہ کام جو خدا نے میرے ساتھ کیسے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے ہر نبی را جام داد آن جام را مرا بتمام جو جام اس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اس نے کامل طور پر سے مجھے بھی دیا ہے آنچه داداست ( در شین فارسی صفحہ 334 ) ( نزول مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 477)