حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 45
45 45 دسویں فصل صلى الله بعثت ثانیہ آنحضرت ﷺ کے اعتبار سے الہامات حضرت اقدس يلقى الروح على من يشاء من عباده كلّ بركة من محمد صلى الله عليه وسلم جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے اور یہ تو تمام برکت محمد ع سے ہے۔فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ط خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس بندہ کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اسکے محسوس کرنے اور نبوت کی مہر نے جس میں بشدت قوت کا فیضان ہے بڑا کام کیا یعنی تیرے مبعوث ہونے کے دو باعث ہیں خدا کا ضرورت کو محسوس کرنا اور آنحضرت کی مہر نبوت کا فیضان۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 99) حاشیه ی وحی الہی کہ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی کیونکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔یعنی آپ کو افاضہ کمال کیلئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔یہی معنی اس حدیث کے ہیں علماء امتـی کـانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہونگے اور بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر انکی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔اور ان کو چھوڑ کر جب اور بنی اسرائیل کا حال دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کو رشد اور صلاح اور تقویٰ سے بہت ہی کم حصہ ملا تھا اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی امت اولیاء اللہ کے وجود سے عموماً محروم رہی تھی اور کوئی شاذ و نادران میں ہوا تو وہ حکم معدوم کا رکھتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 101-99 حاشیہ) چوں گمانے کنم اینجا مدد روح قدس که مرا در دل شاں دیو نظر می آید میں یہاں روح القدس کی مدد کا گمان کیونکر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے تو انکے دل میں دیو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے این مدد هاست در اسلام چو خورشید عیاں کہ بہر عصر مسیحائے دگر می آید اسلام میں یہ امداد سورج کی طرح ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کیلئے نیا مسیحا آتا ہے سرمه چشم آریہ - رخ جلد 2 صفحہ 287 حاشیہ )