حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 713 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 713

713 قرآن اور رسول۔باہم توام ہیں وانـي انـــا الـمـوعـود والقائم الذي به تملان الارض عدلا و تثمر بنفسی تـجــلـــت طلعة الله للورى فیا طالبی رشد علی بانی احضروا خذوا حظكم منی فانی امامکم اذکر کــــم ایـــامــكــم وابشــر وقد جئتكم يا قوم عند ضرورة فهل من رشيــد عــــاقـل يـتـدبــر وما البر الاترك بخل من التقى وما البخل الا رد من يتبقـر وقــالـوا الــى الـمـوعود ليس بحاجة فان کتاب الله يهدى و يخبـــر ومــــاهـــى الا بالغيور دعابة فيا عجبا من فطرة تتهور وقد جاء قول الله بالرسل تواما ومن دونهم فهم الهدى متعسر فان ظبي الاسياف تحتاج دائما الى ساعد يجرى الدماء ويندر۔اور میں مسیح موعود اور وہ امام قائم ہوں جو زمین کو عدل سے بھرے گا اور ویران جنگلوں کو پھل دار کر دیگا۔۔میرے ساتھ صورت خدا کی خلقت پر ظاہر ہوگی۔پس اے ہدایت کے طالبو! میرے دروازے پر حاضر ہو جاؤ۔۔اپنا حصہ مجھ سے لے لو کہ میں تمہارا امام ہوں۔تمہیں تمہارے دن یاد دلاتا ہوں اور بشارت دیتا ہوں۔۔اوراے میری قوم ! ضرورت کے وقت تمہارے پاس آیا ہوں۔پس کیا کوئی تم میں رشید اور عقلمند ہے جو اس بات کو سوچے۔ہے۔اور نیکی بجز اس کے کوئی چیز نہیں کہ تقویٰ کی راہ سے بخل کو دور کر دیا جاوے۔اور بخل بجز اس کے کچھ نہیں کہ جس کا علم وسیع اور کامل ہے اور اپنے سے بہتر ہے اس کو قبول نہ کیا جائے۔۔اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں۔کیونکہ اللہ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے۔۔اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔پس ایسی بیباک فطرتوں پر تعجب آتا ہے۔۔اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول با ہم تو ام ہیں۔اور ان کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے۔ہیں۔کیونکہ تلواروں کی دھار ہمیشہ ایسے بازو کی طرف محتاج ہے۔جو خون کو جاری کرتا اور س کو بدن سے الگ کر دیتا ہے۔( اعجاز احمدی۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 173-172) دیں ہماں دیں بود که وحی خدا نشود زو به هیچ وقت جدا دین تو وہی دین ہوتا ہے جس سے خدا کی وحی کسی وقت بھی جدا نہ ہو۔وحی و دینِ خداست چون توام یک چو گم شد دگر شود گم ہم وجی اور دین خدا چونکہ دونوں جڑواں چیزیں ہیں۔پس اگر ایک جاتی رہے گی تو دوسری بھی کم ہو جائے گی۔( در شین فارسی مترجم صفحه 358 ) ( نزول مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 482)