حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 712 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 712

712 دوم جس طرح پر کہ عقل اس بات کو واجب اور تم ٹھہراتی ہے کہ کتب الہی کی دائی تعلیم اور تفہیم کیلئے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتا فوقتا ملہم اور مکم اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں۔اسی طرح جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نگہ سے اسکودیکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز د بلند یہی فرما رہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کیلئے ہونا اسکے ارادہ قدیم میں مقرر ہو چکا ہے۔دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْاَرْضِ الجزو نمبر 13 نے جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچا نیوالے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے پیشگوئیوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں۔لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دیگر معنی آیت کے یوں ہونگے کہ انبیاء من حیث الفل باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالی ظلمی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر انکی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی طقی وجود قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ یعنے اے خدا ہمارے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کیلئے اس دعا میں حکم ہے اور وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور تائید سماوی اور قبولیت اور معرفت تامہ کاملہ اور وحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس انعام کے مانگنے کے لئے تبھی حکم فرمایا کہ اول اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کر لیا پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیاء کا وجود خلتی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہوا اور نہ صرف دعا کے لئے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے والَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔(العنکبوت : 70) یعنے جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کرینگے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دینگے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔( شہادت القران-رخ- جلد 6 صفحہ 352-351)