حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 704 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 704

704 بہتریں دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی۔اس لیے انعمت عليهم کی دعا میں آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غير المغضوب عليهم ولا الضلین میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔چونکہ مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاری بالا تفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہود نے جیسے بیجا عداوت کی تھی۔مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہانتک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔مومن اور کافر کی مثال ( ملفوظات جلد سوم صفحه 309) مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرُجَهَا فَنَفَخُنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمْتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقِنِتِينَ۔(التحريم: 13:12) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے۔یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گر جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پر پچھتاتے ہیں تو بہ کرتے ہیں خدا سے پناہ مانگتے ہیں۔ان کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتارہتا ہے۔وہ لوگ نفس تو امہ رکھتے ہیں۔بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں۔ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوحِنَا ہر ایک مومن جو تقوی وطہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنے کئے ہیں کہ یہ آیت عام ہے اور اگر یہ معنے نہ کئے جاویں تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ مریم اور ابن مریم کے سوامس شیطان سے کوئی محفوظ نہیں۔اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ تمام انبیاء پر شیطان کا دخل تھا۔پس دراصل اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے خدا کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ابن مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ اس امت میں ابن مریم پیدا ہو۔تعجب ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کا نام محمد اور عیسی اور موسیٰ اور یعقوب اور اسحق اور اسمعیل اور ابراھیم رکھ لیتے ہیں اور اس کو جائز جانتے ہیں پر خدا کے لئے جائز نہیں جانتے کہ وہ کسی کا نام عیسٹی یا ابن مریم رکھ دے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 523-522)