حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 681
681 قُلْ اِنْ اَدْرِى أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ اَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا۔(سورة الجنّ: 26) ان کو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کہ عذاب قریب ہے یا دور ہے۔اب اے سننے والو یا درکھو کہ یہ بات سچ ہے اور بالکل سچ ہے اور اس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں کبھی ظاہر پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی استعارہ کے رنگ میں۔پس کسی نبی یا رسول کو یہ حوصلہ نہیں کہ ہر جگہ اور ہر پیشگوئی میں یہ دعویٰ کر دے کہ اس طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوگی ہاں۔۔۔۔اس امر کا دعوی کرنا نبی کا حق ہے کہ وہ پیشگوئی جس کو وہ بیان کرتا ہے خارق عادت ہے یا ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 253) انسانی علم سے وراء الورا ہے۔آخری زمانے کی علامات إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجَرَتْ۔(الانفطار : 2 تا4) اسی زمانے کی علامات میں جبکہ ارضی علوم و فنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَإِذَا الْبِحَارُ فُجَرَتْ اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی اور کاشت کاری کثرت سے ہوگی۔۔۔وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ اور جس وقت تارے جھڑ جائیں گے یعنی ربانی علماء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آبادرہ سکیں۔یادر ہے کہ مسیح موعود کے آنے کے لئے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔اور ان پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلاف قیاس ہے کہ کوئی دانا ہر گز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ در حقیقت سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور ستارے زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اس حالت میں مسیح موعود آوے۔۔۔۔۔ایسا ہی فرمایا إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَت اور انجیل میں بھی اسی کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر ان آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اس وقت آسمان پھٹ جائے گایا اس کی قوتیں ست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بریکارسا ہو جائے گا۔آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔شہادت القرآن -رخ- جلد 6 صفحہ 317-319) إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا۔۔۔۔الآخر وہ آیات جن میں اول ارضی تاریکی زور کے ساتھ پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور پھر آسمانی روشنی کے نازل ہونے کی علامتیں بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ الخ یعنی آخری زمانہ اس وقت آئے گا کہ جس وقت زمین ایک ہولناک جنبش کے ساتھ جو اس کی مقدار کے مناسب حال ہے ہلائی جائے گی۔یعنی اہل الارض میں ایک تغیر عظیم آئے گا اور نفس اور دنیا پرستی کی طرف لوگ جھک جائیں گے اور پھر فرمایا کہ زمین اپنے تمام بوجھ نکال ڈالے