حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 675
675 قرآن کریم کے مجازی معانی کی ضرورت الفاظ کے معانی وسیع کرنے کے لئے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنی بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقص پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نو مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذا اس کا نئے پیرایہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنصہ ظہور لانا نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہونے کا دعوی کرتی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہ کرے تو وہ ہرگز خاتم الکتب نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالت زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن بلا ریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورت لاحقہ کا کامل طور پر (ازالہ اوہام۔رخ - جلد 3 صفحہ 261-259) متکفل ہے۔علامہ زمخشر کی آیت انی متوفیک کے یہی معنی کرتا ہے انہی ممیتک حتف انفک یعنی اے عیسی امیں تجھے طبعی موت سے ماروں گا۔حتف لغت عرب میں موت کو کہتے ہیں اور انف ناک کو۔اور عربوں میں قدیم سے یہ عقیدہ چلا آتا ہے کہ انسان کی جان ناک کی راہ سے نکلتی ہے اس لیے طبعی موت کا نام انہوں نے تف انف رکھ دیا۔اور عربی زبان میں توٹی کے لفظ کا اصل استعمال طبعی موت کے محل پر ہوتا ہے اور جہاں کوئی شخص قتل کے ذریعہ سے ہلاک ہو وہاں قتل کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اور یہ ایسا محاورہ ہے کہ جو کسی عربی دان پر پوشیدہ نہیں ہاں یہ عرب کے لوگوں کا قاعدہ ہے کہ کبھی ایسے لفظ کو کہ جو اپنی اصل وضع میں استعمال اس کی کسی خاص محل کے لیے ہوتا ہے ایک قرینہ قائم کر کے کسی غیر محل پر بھی مستعمل کر دیتے ہیں یعنی استعمال اس کا وسیع کر دیتے ہیں اور جب ایسا قرینہ موجود نہ ہو تو پھر ضروری ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ لفظ اپنی اصل وضع پر استعمال پاوے۔براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 381) عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے۔بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیفہ نہیں ہے۔اب ہر جگہ اور ہرمحل میں ان پاکیزہ استعاروں کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجز نظام کو خاک میں ملا دیتا ہے پس اس طریق سے نہ صرف خدا تعالیٰ کی پر بلاغت کلام کا اصلی منشاء درہم برہم ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس کلام کے اعلیٰ درجہ کی بلاغت کو برباد کر دیا جاتا ہے۔خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا بھی خیال رہے۔نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو ہجو ملیح کے حکم میں ہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف دہقانی لفظوں تک محدود خیال کر لیا جائے۔( توضیح مرام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 58)