حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 674 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 674

674 الم۔غُلِبَتِ الرُّومُ فِى أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْآمُرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (الروم 2-5) جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت نے مکاشفات اور رویائے صالحہ کے لئے یہی اصل مقرر کر دیا ہے کہ وہ اکثر استعارات سے پر ہوتے ہیں تو اس اصل سے معنی کو پھیرنا اور یہ دعوی کرنا کہ ہمیشہ پیشگوئیاں ظاہر پر ہی محمول ہوتی ہیں۔اگر الحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ صوم اور صلوۃ کی طرح پیشگوئی کو بھی ایک حقیقت منکشفہ سمجھنا بڑی غلطی اور بڑا بھارا دھوکہ ہے۔یہ احکام تو وہ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھلا دیئے اور بکلی اُن کا پردہ اُٹھاد یا مگر کیا ان پیشگوئیوں کے حق میں بھی آنحضرت نے یہ فرمایا ہے کہ یہ من کل الوجوہ مکشوف ہیں اوران میں کوئی ایسی حقیقت اور کیفیت مخفی نہیں جو ظہور کے وقت سمجھ آ سکے۔گر کوئی حدیث صحیح موجود ہے تو کیوں پیش نہیں کی جاتی۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو جہل سے شرط لگائی اور قرآن شریف کی وہ پیشگوئی مدار شرط رکھی کہ الم۔غُلِبَتِ الرُّومُ۔فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ۔اور تین برس کا عرصہ ٹھہرایا تو آپ پیشگوئی کی صورت کو دیکھ کر فی الفور دوراندیشی کو کام میں لائے اور شرط کی کسی قدر ترمیم کرنے کے لئے ابوبکر صدیق کو حکم فرمایا اور فرمایا کہ بضع سنین کا لفظ مجمل ہے اور اکثر نو برس تک اطلاق پاتا ہے۔(ازالہ اوہام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 310,311) مجاز۔استعارہ اور کلام انبیاء علیہم السلام اتعجبون من هذه الاستعارة ولا تعلمون ان الاستعارات حلل كلام الانبياء فهم في حلل ينطقون۔اذكروا قول ابراهيم عليه السلام اعنى قوله غير عتبة بابک ثم انظروا الى اسماعيل عليه السلام كيف فهم اشارة ابيه افهم من العتبة عتبة او زوجته فتفكر وا ايها المسلمون۔وانظروا الى الفاروق رضى الله عنه كيف فهم من كسر الباب موته كا كسر الباب حقيقة و ان شئتم فاقرء واحديث حذيفة في الصحيح للبخارى لعلكم تهتدون۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 459-458) ( ترجمه از مرتب) تم اس استعارہ پر کیوں تعجب کرتے ہو۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انبیاء استعارہ کے لباس میں کلام کرتے ہیں اور اس پردہ کے پیچھے سے گفتگو کرتے ہیں۔چنانچہ تمہیں چاہئے کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول کو یاد کر یعنی اپنے دروازے کی چوکھٹ تبدیل کر دو۔آپ کو غور کرنا چاہئے کہ حضرت اسماعیل نے اپنے باپ کے اشارے کو کس طور سے سمجھا۔یعنی چوکھٹ سے دروازہ کی چوکھٹ سمجھا یا اس سے اپنی بیوی مراد لی۔اے مسلمانوں ! غور کرو کہ حضرت عمر فاروق نے دروازے کے ٹوٹنے سے اپنی موت مراد لی نہ حقیقت میں دروازہ ٹوٹنا۔اگر تم چاہتے ہو تو اس مضمون میں حذیفہ کی بیان کردہ حدیث (جو کہ صحیح بخاری میں درج ہے ) کا مطالعہ کرو تا کہ تم پر حقیقت کھل جائے۔