حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 667
667 اب آپ وزیر آباد میں ہی حافظ عبدالمنان سے جو اس سلسلہ کا سخت دشمن ہے دریافت کریں کہ کیا اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جائے گا یا ظاہر پر اس سے مراد نہیں لی جاتی ، کچھ اور مطلب ہے۔یقیناً اس کو یہی کہنا پڑے گا۔کہ بیشک اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہر اندھا اور نابینا قیامت کو بھی اندھا اور نا بینا اٹھے بلکہ اس سے مراد معرفت اور بصیرت کی نابینائی ہے۔جب یہ ثابت ہے کہ الفاظ میں استعارات بھی ہوتے ہیں اور خصوصاً پیشگوئیوں میں۔تو پھر مسیح کے نزول کے متعلق جو پیشگوئیوں میں الفاظ آئے ہیں ان کو بالکل ظاہر ہی پر حمل کر لینا کونسی دانشمندی ہے؟ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ظاہر پرستی سے کام لیتے ہیں اور نظن سے کام لیتے ہیں۔مگر یا درکھیں کہ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (النجم : 29) اور بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات: 13) ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 372-371) غرض تو ہنسی ٹھٹھا ہے نہ تحقیق۔بعض سرسری نظر سے خدا کی کتاب کو دیکھ کر بغیر اس کے جو پوری سمجھ سے کام لیں فی الفور اعتراض کر دیتے ہیں خدا کی کلام میں کئی جگہ استعارہ ہوتا ہے کئی جگہ مجاز ہوتا ہے اور کئی جگہ حقیقت کا دکھلا نا مقصود ہوتا ہے۔پس جب پورا علم نہ ہو اور اس کے ساتھ اپنا دل صاف نہ ہوتو اعتراض کرنا جہالت ہے۔خدا کے کلام کے صحیح معنے سمجھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا سے ملتے ہیں۔ایک شخص سراپا دنیا کی پلیدی میں غرق آنکھیں اندھی اور دل نا پاک ہے وہ اس حالت میں خدا کے کلام پر کیا اعتراض کرے گا۔اول چاہیئے کہ اپنے دل کو پاک بناوئے نفسانی جذبات سے اپنے تئیں الگ کرے پھر اعتراض کرے۔( سناتن دھرم۔رخ۔جلد 19 صفحہ 473) قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اسکے معنے ہوتے * جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا اسی طرح اسکے معارف بھی دلوں پر یکدفعہ نہیں اتر تے اسی بنا پر متفقین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف بھی یکدفعہ آپکو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ایسا ہی میں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔آنحضرت کی تدریجی ترقی میں ستر یہ تھا کہ آپکی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا۔علم غیب خدا تعالے کا خاصہ ہے جس قدر وہ دیتا ہے اسی قدر ہم لیتے ہیں۔( نزول اصیح۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 421) ان اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِى الْيَمَ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذُهُ عَدُوِّلِي وَعَدُولَّهُ وَ الْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي۔(طه: 40) محبت لفظ جہاں کہیں باہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔رخ۔جلد 12 صفحہ 369 حاشیہ ) جس طرح اللہ تعالیٰ نے نباتات وغیرہ میں کئی قسم کے خواص رکھے ہیں مثلاً ایک بوٹی دماغ کو قوت دیتی ہے اور ساتھ ہی جگر کو بھی مفید ہے اسی طرح قرآن شریف کے ہر ایک آیت مختلف قسم کے معارف پر دلالت کرتی ہے۔منہ