حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 666
666 معانی قرآن حقیقی اور مجازی إِنَّ الْمُصَّدِقِينَ وَالْمُصَّدِقتِ وَاَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ۔(الحديد: 19) قرآن کریم میں یہ سنت اللہ ہے کہ بعض الفاظ اپنی اصلی حقیقت سے پھر کر مستعمل ہوتے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَاَقْرَضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا یعنی قرض دو اللہ کو قرض اچھا۔اب ظاہر ہے کہ قرض کی اصل تعریف کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ انسان حاجت اور لاچاری کے وقت دوسرے سے بوقت دیگر ادا کرنے کے عہد پر کچھ مانگتا ہے لیکن اللہ جل شانہ حاجت سے پاک ہے۔پس اس جگہ قرض کے مفہوم میں سے صرف ایک چیز مراد لی گئی یعنی اس طور سے لینا کہ پھر دوسرے وقت اس کو واپس دے دینا اپنے ذمہ واجب ٹھہرایا ہو۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ- جلد 5 صفحہ 154-155) إذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتُ۔(الانشقاق:2) یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے اور اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفجار آسمانوں کا کیونکر ہوگا۔درحقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخل بیجا ہے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے۔الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لا زم پڑا ہوا ہے۔ہر یک جو بنایا گیا تو ڑا جائے گا اور ہر یک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر یک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا اور ہر یک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہوگی اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفجار کے الفاظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ان سے ایسے معنی مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ - جلد 5 صفحہ 150-151 حاشیه در حاشیه ) یا درکھو۔الفاظ کے معنے کرنے میں بڑی غلطی کھاتے ہیں۔بعض وقت الفاظ ظاہر پر آتے ہیں اور بعض اوقات استعارہ کے طور پر آتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کے سب سے پہلے لمبے ہاتھوں والی بی بی فوت ہوں گی۔اور آپ کے سامنے ساری بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے بھی شروع کر دیئے اور آپ نے منع بھی نہ فرمایا۔لیکن جب بی بی زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔تو اس کے معنے کھلے کہ لمبے ہاتوں والی سے مراد اس بی بی سے تھی جو سب سے زیادہ بھی تھی۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی آیتیں موجود ہیں جن کے اگر ظاہر معنے کئے جائیں تو کچھ بھی مطلب نہیں نکل سکتا۔جیسے فرمایا مَنْ كَانَ فِى هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِى الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنى اسرائيل: 73)