حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 658
658 دوسری فصل قرآن کریم کی گرائمر اور صرف و نحو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول انسانی صرف نحو کا تابع نہیں اغراض نفسانیہ کے ساتھ زبان پر کیونکر احاطہ ہو سکے اور معارف قرآنیہ کیونکر حاصل ہو سکیں اور لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا نا پیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِی یعنی اس زبان کو اور اس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کر سکتا۔اس قول سے بھی ثابت ہوا کہ اس زبان پر ہر ایک پہلو سے قدرت حاصل کرناہر ایک کا کام نہیں بلکہ اس پر پورا احاطہ کرنا معجزات انبیاء علیہم السلام سے ہے۔نزول مسیح جلد 18 صفحہ 437-436) آپ نے اپنی اس شرط کا کچھ خیال نہیں رکھا جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پا چکی تھی جو قال اللہ اور قال الرسول سے باہر نہیں جائیں گے اور نہ ان بزرگوں کی عزت اور مرتبت کا کچھ پاس کیا جو اہل زبان اور صرف اور نحو کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے صرف اور نحو ایک ایسا علم ہے جس کو ہمیشہ اہل زبان کے محاورات اور بول چال کے تابع کرنا چاہئے اور اہل زبان کی مخالفانہ شہادت ایک دم میں نحو و صرف کے بناوٹی قاعدہ کو رد کر دیتی ہے۔ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف و نحو کو اپنے لئے ایسار ہبر قرار دیدیں کہ باوجود یکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کسی آیت کے معنے کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ یا تحوکو ترک نہ کریں اس بدعت کے الزام کی ہمیں حاجت کیا ہے۔کیا ہمارے لئے کافی نہیں کہ اللہ و رسول اور صحابہ کرام ایک صحی معنے ہم کو بتلا دیں نحو اور صرف کے قواعد طراد بعد الوقوع ہے اور یہ ہمارا مذہب نہیں کہ یہ لوگ اپنے قواعد تراشی میں بکلی غلطی سے معصوم ہیں۔اور ان کی نظریں ان گہرے محاورات کلام الہی پر پہنچ گئی ہیں جس سے آگے تلاش اور تبع کا دروازہ بند ہے میں جانتا ہوں کہ آپ بھی ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہوں گے۔آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں اِن هَذَانِ لَسَا حِرَانِ (طه:64) بھی آیت موجود ہے لیکن کیا آپ نظیر کے طور پر کوئی قول عرب قدیم کا پیش کر سکتے ہیں جس میں بجائے ان ہذین کے ان ہذان لکھا ہو۔کسی نحوی نے آج تک یہ دعوی بھی نہیں کیا کہ ہم قواعد صرف و نحو کو ایسے کمال تک پہنچا چکے ہیں کہ اب کوئی نیا امر پیش آنا یا ہماری تحقیق میں کسی قسم کا نقص نکلنا غیر ممکن ہے۔غرض التزام قواعد مخترعہ صرف ونحو کا حج شرعیہ میں سے نہیں یہ علم محض از قبیل اطراد بعد الوقوع ہے اور ان لوگوں کی معصومیت پر کوئی دلیل شرعی نہیں مل سکتی۔خواص علم لغت ایک دور یا نا پیدا کنار ہے افسوس کہ ہماری صرف ونحو کے قواعد مرتب کرنے والوں نے بہت جلد ہمت ہار دی اور جیسا کہ حق تفتیش کا تھا بجا نہیں لائے۔اور کبھی انہوں نے ارادہ نہیں کیا اور نہ کر سکے کہ ایک گہری اور عمیق نظر سے قرآنی وسیع المفہوم الفاظ کو پیش نظر رکھ کر قواعد تامہ کا ملہ مرتب کریں اور یوں ہی نا تمام اپنے کام کو چھوڑ گئے ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ہم کسی طرح قرآن کریم کو ان کا تابع نہ ٹھہرا دیں بلکہ جیسے جیسے خواص وسیع المفہوم قرآن کریم کے الفاظ کھلنے چاہئیں اسی کے مطابق اپنی پرانی اور نا تمام محو کوبھی درست کر لیں۔الحق مباحثہ دہلی۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 183)